مختصر کہانیاں

#دربار_عشق #عائشہ_اقبال #قسط_نمبر_24 زیان بھا…

#دربار_عشق
#عائشہ_اقبال
#قسط_نمبر_24

زیان بھائ آپ آگئے وہ اپنے الماری سے سامان نکال رہی تھی جب کوئی آتا اسے محسوس ہوا۔۔
جواب نہ آنے پہ وہ پیچھے مڑی ۔لیکن وہاں وہ دشمن جان کھڑا تھا ہمیشہ کی طرح خوبرو مضبوط جسامت والا مہرام شاہ۔
ماضی کی کتاب ایک پار پھر اسکے سامنے کھل گئی۔کچھ دیر پہلے ہی وہ سینکڑوں آنسو بہا کر اپنا سامان نکالنے کھڑی ہوئی تھی۔
میں مہرام شاہ ۔کیا غرور پنہاں تھا اسکے نام میں۔آج وہ رعب دبدبہ موجود نہ تھا۔
مجھے یاد رکھا یا بھول گئ وہ سوکھے لہجے میں بولا۔
کیسے بھول سکتی ہوں تمہیں ۔
اتنے سارے دکھوں سے نوازا جو ہے۔
اسکائے بلو ٹی شرٹ میں اسکی رنگت اور کھلی سی کھلی سی تھی۔
اچھی طرح سے ذہن نشین کرواکر قید کیا تھا۔
"میں بھی تمہیں نہیں بھول سکا نہ کبھی بھول سکتا ہوں ۔میری زندگی کی کتاب کے اول سے آخری ورق میں صرف تمہارا نام ہی درج ہے یہ نام میرے سانس کے ساتھ جڑ گیا ہے۔میرا وجود مٹ سکتا ہے لیکن اس کتاب کے ورق کو مٹایا نہیں جاسکتا۔”
اس دل نے بہت کچھ کہنا چاہا۔لیکن وہ کچھ بھی نہیں کہہ سکا۔

بہت اچھی طرح سے یاد ہے وہ خوفناک دن جو میری زندگی کی تمام خوشیاں نگل گئے ہمیشہ کے لیے۔
اب تو تمہیں ٹھنڈ پڑگئی ہوگی نہ۔شکل سےکافی پرسکون لگ رہے ہو وہ اسکے وجود کا جائزہ لینے لگی۔
آنسو اب بھی برس رہے تھے
وہ شخص ویسا کا ویسا ہی تھا بلکہ وجاہت مزید بڑھ گئی رھی۔
وہ تھوڑی دیر رکتی پھر واپس وہ بولنے لگ جاتی۔
حیرت کی بات تو یہ تھی ۔مخالفت سمت پہ موجود شخص بڑے تحمل کا مظاہرہ کرکے اسکے دکھ کو سماعت کررہا تھا۔
اب وہ واپس اپنی کتابوں کو بوکس میں بھرنے لگی۔
قسمت نے مزید ستم رکھے ہیں ۔

مہرام کو اسکی آواز بھرائی ہوئی لگی۔
وہ دونوں بازو باندھے اسکی حرکت کو بڑی غور طلب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔کتنے دنوں بعد اسےدیکھا ہے۔
کیوں واپس آئے ہو۔وہ اسے ایک سیکنڈ کے لیے پاگل لگی۔
جس دن سے میری زندگی میں آئے ہو اس دن سے لے کر آج کے دن تک میرے لیے عذاب سے کم نہیں ہے۔
وہ تنے اعصاب سے اسے سنارہی تھی۔دل تھا کہ ماضی کی یادوں پہ رورہاتھا

وقت کے شکنجوں نے
خواہشوں کے پھولوں کو
نوچ نوچ توڑا ہے
کیا یہ ظلم تھوڑا ہے ؟
درد کے جزیروں نے
آرزو کے جیون کو
مقبروں میں ڈالا ہے
ظلمتوں کے ڈیرے ہیں
لوگ سب لٹیرے ہیں
سکون روٹھ بیٹھا ہے
ذات ریزہ ریزہ ہے
تار تار دامن ہے
درد درد جیون ہے
شبنمی سی پلکیں ہیں
قرب ہے نہ دوری ہے
زندگی ادھوری ہے
اب سمجھ آیا کہ
موت کیوں ضروری ہے

مجھےکونسا تمہاری ملاقات سے مسرت ہوئی ہمیشہ کی طرح میرا نقصان ہی کیا ہےدن رات میرے سر پہ عذاب پہ سوار ہوتم سے نفرت کی آگ نے مجھے جلادیا ہے۔دن رات اس کرب میں مبتلا ہوں مجھےبے چین کرکے تم کیسے جاسکتی ہو۔
اگر تم آج نہیں ملتی تو میں کئی سے بھی تمہیں ڈھونڈ نکال لیتا۔
کرب اس کی آنکھوں سے ظاہر تھا۔
مجھے آگ میں جھونک کر تم کیسے خود کیسے سکون سے رہ سکتی ہو۔

"کیسی آگ دل نے سوال کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔”عشق کی آگ”۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دبی دبی آواز کہیں سے ابھری۔”

آج میں تمام حساب برابر کرکے ہی جاؤنگا وہ زمین پہ بیٹھی اس لڑکی کے آگے بیٹھ گیا ۔انگاروں سے بھری آنکھیں سرخ ہورہی تھی ۔وہ شخص لمحہ لمحہ خطرے کے لیے وارن کررہا تھا۔۔
کیا چاہتے ہو تم اب وہ اسکی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔
لیکن قسمت ہماری سوچ کے مطابق تھوڑی لکھی جاتی ہے ۔ہماری سوچ کو قسمت کے مطابق سوچنا پڑتا ہے ۔یہاں آکر ہر کوئی بے بس ہوجاتا ہے باقی تمام اختیارات انسان رکھتا ہے۔مگر قسمت کا لکھا جانا ہمیشہ چھپا ہی رہتا ہے

کیا چاہتے ہو۔کونسے گناہ کا بدلہ لے رہے ہو ۔میرے جان سے پیارے بھائی کا آخری دیدار بھی مجھے نصیب نہیں ہوا۔میری ماں جو لوگوں کے طعنے سن سن کر دنیا سے رخصت ہوگئی ۔
اور میرے بابا ۔میری زندگی کا واحد سہارا انہیں بھی ہارٹ اٹیک ہوگیا۔
وہ اپنا منہ ہاتھوں میں لیے رورہی تھی ۔
میری زندگی کا چین سکون سب برباد کرگیا ہے۔
لوگ مجھے غلط سمجھتے ہے میری آبرو پہ سوال اٹھاتے ہے۔
اور کیا رہ گیا ہے مجھ میں سب تو ختم ہوگیا ہے ۔
ہاں یہ جسم رہ گیا ہے سانسیں ہی تو بچی ہے یہ بھی چھین لو۔

"ایک مرتبہ صرف ایک مرتبہ میری طرف دیکھو ۔تمہیں خوشیوں کے معراج پہ نہ بیٹھا گیا تو کہنا۔”

دل بار بار جواب دے رہا تھا۔
لیکن وہ تو محرما کو دیکھنے میں مگن تھا۔
وہ بےدردی سے اپنے آنسو پونچھتے کچن کی طرف بھاگی۔
واپس آکر اسے چاقو تھمائی ۔
یہ لو کام تمام کردو۔
میری سانس ختم کردو۔
کسی کو بھی معلوم نہیں ہوگا۔
وہ جنونی ہورہی تھی۔
مجھے مزید جینے کی تمنا نہیں بچی ۔
آنسو بے اختیار بہہ رہے تھے مگر وہ رو نہیں رہی تھی ۔وہ اندر ہی اندر ختم ہورہی تھی۔
خود کشی حرام ہے ورنہ میری قبر بھی تمہیں نہیں ملتی۔
جنونی لڑکی اس سے کئی زیادہ کرب میں مبتلا تھی۔
کیسے کیسے ستم کے پہاڑ ٹوتے تھے۔
پھر بھی وہ خدا سے شکوہ کناں نہیں تھی۔
لو کھڑے کیا ہو گردن کاٹ ڈالو میری وہ آنکھیں پھاڑے چلارہی تھی۔
آنسو مہرام کے دل پر گر رہے تھے۔
آج مہرام شاہ کی ڈھرکن اسکا نئا روپ دیکھ کر رک سی گئی۔
پرانی انا کئی چھپی بیٹھی اپنے کیئے کرائے کے تماشے دیکھ رہی تھی۔
غرور نے اسکا ساتھ دینے سے انکار کردیا تھا۔
پرانا رعب و دبدبہ سب کھو گئے تھے۔
پھتر دل میں شگاف پڑنے کو ہے۔
"تو ثابت ہوا محبت معجزہ ہوتی ہے”
اس نے واپس اپنے ڈوپٹے کے کونے سے اپنی آنکھیں رگڑ لی۔
ایک بار ہی مار ڈالو یوں باربار کی موت سے اچھا ہے پھر تم نفرت کی آگ میں نہیں جلوگے ۔
کونسی نفرت وقت مہرام پہ ہنسا ۔
جو نفرت کے بڑے بڑے دعوے کرتا تھا۔

زبردستی اسکے ہاتھ پہ چاقو پکڑا کر اپنی گردن پہ رکھ رہی تھی۔
مہرام شاہ مارو کس کا انتظار ہے وہ چینخ رہی تھی۔
پاگل تو نہیں ہوگئی تم جنون سر پہ سوار ہوگیا ہے۔
مارو مجھے وہ بدستور ایک ہی بات کررہی تھی۔
وہ چاقو کو اس سے دور کررہا تھا مگر وہ پوری قوت سے کھینچ رہی تھی۔
پاگل تو نہیں ہوگئی۔
وہ اس کے ہاتھ چاقو چھین رہا تھا مگر انجانے میں چاقو محرما کے ہاتھ میں لگ گیا۔
سرخ خون اسکے ہاتھ سے بہنا شروع ہوگیا تھا۔
مائی گوڈ ۔۔۔
سفید خون مہرام کی آنکھوں سے جھلک رہا تھا ۔مگر وہ چپھا گیا۔
یہ کیا کیا تم نے مہرام نے اپنے ہاتھ سے اسکے ہاتھ پہ کٹ والے حصے کو ڈبارکھا۔
لیکن خون رکا نہیں ۔کئی وین نہیں کٹ گئی ہو۔
ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی درد محرما کو ہی سہنا پڑا۔
اسکا اسکائی بلو ٹی شرٹ ایک بار پھر خون سے رنگ گیا تھا۔
لیکن اس بار اسے اپنے قیمتی کپڑوں پہ غصّہ نہیں آیا۔
وہ اسکا ہاتھ یوں ہی تھامے فورا گاڑی میں بٹھانے لگا
وہ موم کی گڑیا بن گئی تھی ۔
جسے جیسے بھی رکھا جائے وہ رہ لے گی..
ڈاکٹر نے بینڈیج باندھ دی تھی اور کچھ دوائیاں لکھ کر دی ۔
پیشنت کا خون کافی بہہ گیا ہے اسلیے انھیں فریش جوس پلادیجیے گا۔ڈاکٹر نے ہدایت دی۔ وہ ڈاکٹر کا شکریہ ادا کرکے اسے گاڑی کے پاس لایا۔
چھوڑو ہاتھ میرا۔
وہ ہاتھ جھٹکتے ہوئے بولی۔
چلتے پھرتے لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے۔
یہ کیا طریقہ ہے وہ زبردستی اسکا ہاتھ پکڑنے لگا۔
محرما نے نخوت بھری نظر اس پہ ڈالی۔
اب کی بار وہ نہیں چھڑواسکی اتنا مضبوطی سے تھاما تھا۔
اسنے گاڑی کو راستے میں ایک جگہ روکا۔
ایک نظر چپ سی بیٹھی اس لڑکی پہ ڈالی۔
بڑی ہوشیاری سے اسنے گاڑی کے تمام دروازے کو لاک کرکے فریش جوس لینے باہر نکلا
وہ بار بار اسے دور سے دیکھ رہا تھا۔
مجال ہے جو محرما ہلی بھی ہو۔
وہ پورا راستے گلاس پہ نظر جمائے ساکت بیٹھی تھی۔
ابیرہ تمہیں بہت یاد کرتی ہے ۔وہ گاڑی اسکے گھر کر سامنے روک کر بولا۔
مہرام نے پہلی بار کوئی الگ بات کی تھی ورنہ ہر بار ان کے درمیان لڑائی نفرت اور انتقام کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔
وہ ایسا کیوں بی ہیو کررہا تھا۔
وہ خود نہیں جانتا تھا۔
وہ گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی۔
پھر واپس اسکی طرف مڑی۔
ایک ہاتھ سے وہ بیندج کو کھول رہی تھی۔
بیندیج کھلتے ہی دوائی والی کاٹن پھسل گئی۔
یہ لو تمہارا احسان ۔
مجھے اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے
اتنی سے چوٹ کیا تکلیف دے گی مجھے۔
وہ پٹی گاڑی میں پھینکتی بولی۔

آئندہ میری زندگی میں مت آنا ۔وہ زخمی ہاتھ کی شہادت کی انگلی اسکے سمت مرکوز کرکے ایک ایک لفظ چبا کر بولی۔
ایک بار پھر کہتی ہوں پلیز مجھے اپنی شکل کبھی مت دیکھانا۔
اگر اللہ کو مانتے ہو تومیرا پیچھا کبھی مت کرنا۔
"ایسا مت کہو ۔۔وہ یہ کہنا صرف سوچتا رہ گیا”
دل کو تکلیف ہوئی۔
مجھے ڈھونڈنے کی کوشش کبھی نہیں کرنا ۔وہ اسکے سامنے ہاتھ نہیں جوڑرہی تھی۔
اسے خودسے دور ہونے کا کہہ رہی تھی۔
وہ نازک سی لڑکی مضبوط جسامت والے مہرام کو ریزہ ریزہ کرنے کی پوری طاقت رکھتی تھی۔
بڑے بڑے پہاڑ اتنی تکلیف نہیں دیتے جتنی چھوٹے چھوٹے کنکر دے سکتے ہیں ۔
وہ گاڑی کا دروازہ بند کرکے اپنے گھر میں چلی گئی۔
آج وقت نے کیسے پاسا پلٹا تھا۔انا و غرور سے بنا انسان عاجز تھا۔
وہ الفاظ رکھ کر بھی کچھ نہ بول سکا۔
اسکی پرواز آسمان سے زمین کی طرف لوٹ رہے تھی۔
کھلی ہوئی بیندیج اور جوس اسکا منہ چرارہے تھے۔
بظاہر کمزور دکھنے والی لڑکی کمزور نہ تھی ۔
وہ تو مہرام سے زیادہ جرات کا مظاہرہ دیکھاگئی۔
"کئی عذاب رتوں کا عتاب باقی ہے
کچھ آرزوں کا بھی احتساب باقی ہے
یہ کیا کہ شب کی اسیری میں قید ہوجائیں
یقیں ہے جبکہ رخِ ماہتاب باقی ہے
پڑاؤ ڈال رہے ہیں سحر کے اگلے قدم
مری زمیں میں ابھی اضطراب باقی ہے
میں کیسے مان لوں اے جاں کہ حرفِ تازہ میں
ترے جنوں کا وہ پہلا نصاب باقی ہے”
……
وہ گاڑی کو بے مقصد یہاں وہاں گھماکر دیر رات گھر لوٹا۔عجیب سی بے چینی پورے وجود میں سرایت کرچکی تھی۔
صرف جند ہفتوں کی دوری نے اسے بے کل کردیا تھا جو اسے کبھی نہ شکل دکھانے کا کہا کرتا تھا۔آج وہ وہی شکل سوتے جاگتے دیکھنا چاہتا تھا۔
ایک پل لگا تھا اسے خود کو پہچاننے میں ۔جیسے ہی غرور و انا راستے سے ہٹے اسے سب صاف شفاف نظر آنے لگا۔اپنا ٹرپتا دل ، اس لڑکی کا سسکتا وجود ۔
۔۔۔۔۔۔۔
وہ روز اسکے گھر کے سامنے گھنٹوں کھڑا رہتا۔لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی زنک آلود تالہ اسکی اضطرابی میں اضافہ کرتا۔
۔۔۔۔۔۔
عورت ان گنت روپوں کا مجموعہ ہے۔جہاں وہ بڑے بڑے غم سہہ کر بھی ہونٹوں پہ مسکان سجائے پھرتی ہے وہاں وہ چھوٹی چھوٹی چھبن پر واویلا مچانے کی صلاحیت رکھتی ہے بس وہ ذرا سے توجہ کی طلب گار ہوتی ہے وہ چاہتی ہے اسے سرایا جائے۔
اسکی کاوشوں پہ داد دی جائے۔
بس اتنی سی توجہ سے وہ آپ پر جان بھی قربان کرنے کو تیار ہوجائے گی اور اگر اس سے توجہ ہٹادی جائے۔
اسے غلطی سے بھی بھول جایا جائے تو وہ آپ کو دنیا کا سب سے برا انسان تصور کرنے سے دریغ نہیں کرےگی۔
ابیرہ واثق کو زندگی کا سب سے انمول تحفے میں مل گئی تھی۔
اپنی پسندیدہ انسان کے مل جانے سے بہتر اور کچھ ہوسکتا ہے بھلا۔
وہ اپنی امی کی ہر بات کا دل سے احترام کرنے لگا تھا۔اگر وہ زبردستی نہ کرتی تو زندگی اتنی خوبصورت کبھی نہ ہوتی۔
اور ابیرہ تو ویسے بھی خوش تھی۔
خوابوں کا شہزادہ اسے اپنی دنیا میں جو اڑالے گیا تھا۔
۔۔۔۔
دودن سے مسلسل وہ بخار میں تپ رہا تھا۔غنودگی کی حالت میں ٹھیک طرح سے کھڑا بھی نہیں ہوا جارہا تھا۔مسز عالم نے اسے گھر سے باہر نہ نکلنے کی تاکید کی تھی۔
لیکن بے چینی و بے قراری حد سے سوا ہورہی تھی۔رہ رہ کر غصہ جلن اسکے دل پہ حملہ آور تھا۔وہ چاہ کر بھی انہیں بھلا نہیں پارہا تھا
وہ تمام قصور ،تمام گناہ،کسی کو ناحق ستانے کا جرم اسکا پیچھا کررہے تھے۔
وہ رف سے حلیے میں باہر ٹھنڈی ہوا میں نکل کر کچھ دیر کھڑا رہا ہے لیکن اسے وہاں بھی کچھ سکون میسر نہیں آیا۔
افاقہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ گاڑی لے کر نکل گیا۔
جب دل ہی میں ویرانی اور اداسی قبضہ کرلے تو باہر کا موسم بھی خزاں رسیدہ لگتا ہے۔
وہ مسلسل ڈرائیونگ کرتا رہا۔
منزل کیا تھی راستہ کیسا تھا وہ ان سب سے نامانوس تھا بس اسے محو سفر رہنا تھا۔۔
سنسان سڑک ہونے کہ وجہ سے وہ مرر کے آرپار نظر گھمالیتا۔
سیاہ چادر سے خود کو چھپائے ایک لڑکی پہ نظر پڑی۔
مہرام نے فورا گاڑی روکی۔
ایک سیکنڈ کے لیے دل کو انہونی خوشی میسر آئی تھی۔
تنہا لڑکی تیز تیز قدم بڑھاتی ہوئے موڑ کاٹ رہی تھی۔
مہرام نے اس لڑکی کو صرف دیکھنا چاہا۔
محرما۔اسنے پکارا۔
لیکن وہ لڑکی اب بھاگنے لگی۔مہرام نے بھی تیز تیز قدم چلاتے ہوئے اسکا پیچھا کیا۔
محرما ۔۔اسے لگا کہ وہ محرما ہے۔
وہ اسے دیکھنا چاہتا تھا۔
وہ دبلی لڑکی اپنی پوری قوت کو اکٹھا کرکے بھاگی۔
اور اندھیرے میں کہاں گم ہوگئی۔
مہرام نے ادھر اودھر نظریں کی۔
لیکن وہ غائب ہوچکی تھی۔
مح۔۔رم۔۔۔ا۔۔۔۔ا۔۔۔۔ا۔۔۔
چینخنے کی آواز فضا میں گونجی۔۔
پہلا آنسو اسکے آنکھوں سے نکل کر رخسار پہ جذب ہوگیا۔
"اگر اللہ کو مانتے ہو تو میرا پیچھامت کرنا۔”
اسکے کانوں میں کسی کی آواز گونجی.
وہ جنونی لڑکی اسکے ذہن پہ آسیب کی طرح سوار ہوگئی تھی
۔وہ واپس شکستہ قدم اٹھائے اپنی گاڑی میں گھسا۔
کسی کی سسکتی ہوئی آئیں عرش پہ پہنچادی گئی تھی۔
دل کی دہلیز پہ محبت اپنے پنجے گھار چکی ہے عشق کے عین نے عقلوں کو منجمد کرنا شروع کردیا ہے
بخار اپنی شدت پکڑچکا تھا۔بخار کی جلن سے اسکی آنکھیں سرخ ہورہی تھی۔
دل کی جلن سے وجود کپکپارہا تھا۔
اسنے گاڑی چلانا ترک نہیں کی۔بلکہ تیز اسپیڈ سے چلانے لگا۔
اندر کی اودھم نے باہر ہلچل مچادی تھی
۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/