#دربار_عشق #عائشہ_اقبال #قسط_نمبر_33 مہرام تم…

#عائشہ_اقبال
#قسط_نمبر_33
مہرام تم ابھی تک تیار نہیں ہوئے مہمان آتے ہی ہونگے.وہ اپنے کمرے میں اندھیرے کیے بیڈ پہ لیٹا پڑا تھا .جب مسز عالم نے کمرے کی بتی کھول کر کہا.
مام ہورہا ہوں وہ اپنی آنکھیں بمشکل پوری کھولے مخاطب ہوا.کل رات سے غائب تھے اور شام کو آکر یوں سوئے ہوئے ہو طبیعت تو ٹھیک ہے نہ وہ اسکے پاس آکر بیڈ پہ بیٹھی اور اسکی پیشانی چیک کرنے لگی.
اف تمہیں تو تیز بخار ہے اور تمہاری آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہورہی ہے .رات بھر سوئے نہیں ہو نہ تم .وہ فکر سے پوچھنے لگی.
مہرام نے سر دائیں بائیں ہلایا.
یہ میڈیسن لے لو وہ سائیڈ دراز سے میڈیسن نکال کر کر اسکے آگے کرتی بولے.
مام میں ٹھیک ہوں .وہ اٹھ کر بیٹھ گیا.رات کو سردی میں وہ کتنی دیر ٹھنڈے پانی کے نیچے کھڑا رہا تھا پھر باہر کی ٹھنڈی ہوا نےاسے تیز بخار چڑھادیا.
تم اگر نہیں پیوگے تو میں ڈاکٹر کو کال کردونگی پھر تمہیں اتنی ساری میڈیسن کھانی پڑیگی وہ انہیں
دلہن تیار بیٹھی ہے اور دولہا سویا پڑا ہے.
محرما کے نام پہ اسکے چہرے پہ سایا سا لہرایا .
اوکے مام میں کچھ دیر میں آرہا ہوں وہ کھڑا ہوکر وارڈراب میں سے کپڑے نکال کر باتھ روم گھس گیا.
چینج کرکے وہ آئینے کے سامنے بال بنانے لگا.
بلیک کوٹ پینٹ اندر رسٹ کلر کی شرٹ میں وہ بہت اسمارٹ لگ رہا تھا .لیکن اترا اترا چہرہ سرخ آنکھیں اسے خود پہ عجیب لگی.کم از کم آج کے دن مجھے اچھا لگنا چاہیے وہ خود سے مخاطب ہوا.
آج میری اپنی زندگی کا آخری دن ہے مجھے خوب انجوائے کرنا ہے وہ اکیلے اکیلے آئینے میں دیکھ کر گفتگو کرنے لگا.
میری محرما کیسی لگ رہی ہوگی .دل نے اچانک اک خواہش ظاہر کی.اک عجیب سی اداسی واپس اسکے رگ وپے میں ڈورنے لگی.کلون کا اسپرے کرکے وہ مضطر دل کو سنبھا لے باہر نکلا.
لان میں اور بنگلے کی گاڑدن میں سب اریجمینٹ کی ہوئی تھی.ابیرہ مہرام کے سسرال والوں کے علاوہ چند ہی احباب شامل تھے.
محرما اور مہرام کو ایک ساتھ اسٹیج پہ لایا گیا .مہمانوں کی ستائشی نظریں ان دونوں پہ جمی ہوئی تھی .بند کھل ہوتی ڈسسکو لائٹ ان دونوں کو فوکس کیے ہوئے تھی .مہرام اسے سب کے سامنے صرف کن اکھیوں سے ہی دیکھ سکا.اسے دیکھتے رہنے کی خواہش ابل ابل کر جاگ رہی تھی.
واثق چھوٹی ابیا کو اٹھا کر ابیرہ کے ساتھ ان کے پیچھے چل رہا تھا.واثق اور دوسرے مہمانوں نے خوب خوب مبارک باد پیش کی.
محرما نظریں جھکائے اسکے پہلو میں بیٹھی تھی.دل کی دھڑکن عجیب ساز الاپ رہی تھی.وہ بہت زیادہ خوش ہونا چاہتی تھی مگر انتقام کی آگ اسکی خوشی کو جلادیتی تھی.
فوٹو سیکشن چل رہا تھا ایمل اور شازیب صاحب محرما کو خوش دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے اس لڑکے نے اپنا وعدہ سچ کر دیکھایا تھا.انہوں نے ان مہرام شاہ کو خوب دعائیں دی.
مہرام اور محرما اب اٹھ کر باری باری سب سے ملنے گئے .محرما نے عقیدت سے اپنے بابا کا ہاتھ چوما.مہرام نے بھی ایسا ہی کیا.
سدا خوش رہو.
اللہ تمہاری جوڑی ہمیشہ سلامت رکھے .شازیب صاحب نے دعاؤں سے نوازا مہرام کو انہوں نے اپنے پاس روکا .جبکہ محرما آگے بڑھ گئی.
مہرام بیٹا تم میرے لیے کسی مسیحا سے بڑھ کر نہیں ہو .تم نے جو کیا ہے کوئی سگا بھی نہیں کرتا .اللہ تمہیں لمبی عمر خیر و عافیت کے ساتھ دے .اک باپ اپنے محسن کا شکر ادا کررہا تھا.بس میری ایک خواہش ہے زندگی میں چاہے جتنی بھی پریشانیاں کیوں نہ آجائے میرے بعد بھی ,تم محرما کو ہمیشہ یوں ہی خوش رکھنا .اسنے بہت سے دکھ جھیلے ہیں مزید دکھ جھیلنے مت دینا .
مجھے امید ہے .تم بہت اچھے ہو اسے ہمیشہ خوش رکھوگے .مہرام انکی باتوں پہ تہے دل سے عمل کرنا چاہتا تھا مگر وہ کہاں چاہتی تھی ایسا.
وہ تو میرے ساتھ سے ہی نا خوش ہے.
وہ فقط دل میں کہہ سکا.
انکل بس آپ کی دعائیں چاہیے .آپ ہمارے لیے دعائیں کرتے رہینگے تو ہم ہمیشہ خوش رہینگے.وہ ان کو دلاسہ دے کر آگے بڑھا .آنکھیں دھندلا سی گئی تھی.
محبت میں ایک ایسا مقام بھی آتا ہے جب محبوب کی کسی بھی بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا .
وہ تو پھنس کر رہ گیا تھا ایک ساتھ رہنے سے انکاری تھا .دوسرا ساتھ رہنے کی التجائیں کررہا تھا.
مہرام کی نظریں رہ رہ کر محرما کو تلاش کرتی ایک پل کی بھی دوری, آنکھوں سے اوجھل ہوجانا اسے برداشت نہیں تھا .وہ کیسے اسکے بغیر پوری زندگی گزارسکے گا.
تم تو اسیے دیکھ رہے ہو جیسے آج آخری بار دیکھ رہے ہو ریلیکس وہ تمہاری بیوی ہے پوری زندگی اسے ہی دیکھنا ہے
واثق مہرام کی بھٹکتی ہوئے نگاہوں کو کبھی سے نوٹ کررہا تھا.
کاش میں پوری زندگی اسے ہی دیکھتا رہتا کبھی وہ مجھ سے دور نہ جاتی.مہرام نے بے ساختہ ہلکی آواز میں جواب دیا.جو واثق سن چکا تھا.
کیا مطلب واثق کھانے کا چمچہ پلیٹ پہ واپس رکھ کر پوچھا.
مہرام کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی سرخی اب تک واضح تھی.
کچھ نہیں اسنے لاپروائی سے کہا.
مہرام میں تمہارا کزن ہوں مجھے معلوم ہے تم محرما سے انتہا کی محبت کرتے ہو مجھے نہیں بلکہ سب کو ہی معلوم ہوگا.
لیکن اسکو اعتبار نہیں ہے مجھ پہ وہ صرف مجھے آج تک دھوکے باز سمجھتی ہے اور تو اور.وہ ….
وہ بولتے بولتے رک گیا.
آنسو آنکھوں میں ڈیرہ جمائے بیٹھے تھے .وہ ضبط کی کیفیت میں الجھا بیٹھا تھا..
واثق نے گہری نگاہ اس پہ ڈالی جو اپنے اندر ایک طوفان رکھتا تھا .ایسا طوفان جو اسے اندر ہی اندر تباہ کررہا تھا اسکی مضبوط بنیادوں کو گرارہا تھا.
مہرام تم سب کچھ مجھ سے کہہ سکتے ہو .ہم کزن ہونے سے پہلے ایک اچھے دوست بھی رہ چکے ہیں بے شک ہماری دوستی میں اتنی سچائی اور خالصیت نہیں تھی.لیکن اب ہم اس کچی دوستی کو مضبوط کرسکتے ہیں .واثق اسے یقین دلارہا تھا.مہرام نے دل کا تمام غبار نکالا.
محرما نے مجھے صرف ایک ہی آپشن دیا ہے ڈائیورس کا.وہ مجھ سے رو رو کر ڈائیورس مانگ رہی ہے یار.
میں اسکے بغیر خود کو سوچتا ہوں تو میری سانسیں اٹک جاتی ہے اسکے بنا جینے کا تصور میں کیسے کرسکتا ہوں.
واثق کو انکی عجیب کہانی سن کر حیرانی ہوئی.کوئی بھی ان کی کہانی سے واقف نہ تھا سب یہی سمجھتے تھے کہ محرما کو زبردستی اس سے نکاح کروایا گیا مگر محرما ایسا کیوں ری ایکٹ کرتی ہے کسی نے جاننے کی بھی کوشش نہیں کی تھی.
کتنا زہر پھیلا ہوا تھا اس لڑکی کے دل میں .
تو تم نے اسے طلاق دینے کا فیصلہ کرلیا ہے
واثق نے بے یقینی سے اسے دیکھا.
مجھے تم اتنے بے وقوف نہیں لگتے تھے .خدا کا شکر مجھے سب بتادیا ورنہ تم تو اسے طلاق بھی دے دیتے .
او گاڈ .واثق نے اپنا سر پکڑلیا.
مہرام تم نے اس سے محبت کی ہے اور محبت میں آزمائش آنا سچی محبت کی علامت ہوتی ہے.
اگر آج اسکے دل میں تمہارے لیے نفرت ہے تو کل محبت بھی ہوجائے گی تم اسے اپنی محبت جتاؤتو سہی پھر دیکھنا جیسا تمہارا حال ہے اسکے لیے جتنی بے چینی ہے کل اسے بھی تم سے اتنی محبت ہوجائے گی.
ایسا کچھ نہیں ہوگا.اسکا دل نفرت سے اندھا ہوچکا ہے وہ میری شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتی .
تو کیا ہوا یہی تو تمہیں ثابت کرنا ہے اپنی محبت میں اتنا خلوص پیدا کرو کہ وہ اپنی تمام نفرت بھلا کر تم سے محبت کرنے لگے.
لیکن ….
مہرام کی نظر سامنے پڑتے ہی اسے بولتے بولتے بریک لگ گیا…
واثق نے اسکی نظروں کی سمت دیکھا ..اور سب سمجھ گیا.
ابھی اسے سبق سیکھاتے ہیں تم پلیز کول ڈاؤن رہنا .مہرام کی سلگتی کنپٹی پہ نظر پڑتے ہی اسنے سمجھایا.
وہ دونوں اٹھ کے اس کے پاس گئے جو محرما سے ہنس ہنس کے گفتگو کرنے میں مگن تھا.
مجھ سے بات وہ کڑوے کریلے منہ میں ڈال کر کرتی ہے اور اس سے دیکھو …
اسے تو میں چھوڑونگا نہیں .وہ بڑبڑایا
شاویز ماموں واثق پاس آکر اسے پکارنے لگا.
کیوں اچھا نہیں لگا شاویز ماموں یا پھر خالی ماموں ٹھیک ہے محرما اور شاویز نے اسے ناسمجھی سے دیکھا.
ارے یار میں نے کوئی سائیٹیفک زبان تھوڑی کہی ہے اب ظاہر سی بات ہے محرما کے بھائی ہو تو ان کے بچے تمہیں ماموں ہی کہینگے نہ وہ مسکراہٹ ڈبائے اسکا اڑہ اڑہ چہرہ دیکھنے لگا.
مہرام کے چہرے پہ اسکے لیے وہی جلن نمایاں تھی.
تمہیں منع کیا تھا میں نے کس نے بلایا تمہیں یہاں وہ اس کے بلکل پاس جاکر دھیمی آواز سے دانت چبائے بولا.
مہرام مہرام ……
میں نے کہا نا کول ڈاؤن .واثق نے اسے پیچھے کرکے بولا.
تم جاؤ محرما کو روم تک چھوڑ آؤ .
یہاں تماشا نہیں بنانا ہمیں …
میں اسے سب سمجھادونگا.وہ شاویز کو لے کر باہر چلاگیا.
میں نے بلایا تھا اسے محرما نے اعتراف کیا.
وہ دلہن کے روپ میں ہر طرح سے جج رہی تھی مگر یہ اعتراف سن کر مہرام کے ساری خوشی پھیکی پڑگئی اور وہ اسکی طرف نظر پھیر کر دوسری طرف دیکھنے لگا.
پیپر کہاں ہ ڈایورس کے محرما نے خطرناک سوال پوچھا.
آجائے گے کل تک وہ بول کر رکا نہیں چلاگیا.
دل میں تیر چل رہے تھے .وہ ضبط کیے سب مہمانوں کو الوداع کہہ کر اپنے کمرے میں آگیا .محرما کا ایک ہی مطالبہ اسکے جسم میں زہر کی پھیل رہا تھا
…….
سب لوگوں کے جاتے ہی وہ اپنے کمرے میں آکر سب جیولری اتارنے لگی.
"داغ فراق , زخم وفا, اشک خوں فشاں
روز اول سے ہیں یہی جاگیریں عشق کی.”
……..
"سوز فراق یار میں مرنا نہیں کمال
مرمر کے ہجر یار میں جینا کمال”
انسان کی برداشت کی آخری حد سے عشق کی ابتداء ہوتی ہے
عجیب مقام فکر ہے
عجب حال دل ہے.
موسم ویران ہے.
عشق لاحاصل کی بقاء کے لیے وہ ترس رہا تھا.
وہ عشق کے جال میں کشمکش کے حال میں پھرپھرا کر رہ گیا تھا.
اور سونے پہ سہاگہ یہ تھا اسے اک طرفہ محبت ہوئی تھی .
مجاور اسے ہمیشہ ایک ہی بات کہتا .جو اسکی سمجھ سے بالاتر ہوتی.
اوئے بندے دا پتر بن
مگر دل بندے دا پتر نہیں بندا.
اور اس رب کے عشق میں عشق زدہ بن کر اپنی جان .جان آفریں کے سپرد کردیں.
اگر اتنا عشق رب سے ہوجاتا تو اسے کسی دنیاوی خواہش کی طلب نہیں رہتی .
……
ماضی کی ایک ایک یاد اسکے ذہن کے دریچوں میں کھل کر واضح ہورہی تھی.فریش ہوکر وہ آئینے کے سامنے بیٹھی اپنے بال سلجھارہی تھی مہرام میں اسے کافی تبدیلی محسوس ہوئی تھی مگر وہ کیسے اس شخص پہ اعتبار کرلیتی جو ہمیشہ اسکی زندگی میں تکلیف کا باعث بنا ہے.اسے زخم دینا اسکا روزمرہ کا معمول بن چکاتھا.دل تھا کہ اسکی طرف داری میں قلابیں کھارہا تھا ڈھرکن بھی اسی دشمن جاں کی مالا جب رہی تھی.وہ اپنے دل کے سامنے اکیلی پڑگئی تھی.
مہرام کے پہلو میں رہ کر اسے کتنے ہی اعتراف کرنے تھے اپنی ڈبی ڈبی محبت کا اقرار کرنا تھا جو وہ روز تھپکی دے کر سلادیا کرتی تھی.
اسے حیرت ہوتی تھی مہرام اسکی ہر غلط صحیح بات کو دل سے مانتا تھا .وہ اسے سامنے جواب تک نہیں دیتا تھا.جس کی وجہ سے وہ آگے کچھ نہیں بول سکتی تھی.
وہ کروٹ بدل کر رہ گئی نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی وہ اٹھ کر بیٹھ گئی مہرام ہمیشہ کی طرح آج بھی اسے خوبرو لگا. اسنے نظروں سے اسکی نظر اتاری تھی آج ناجانے اسے مہرام کے حوالے سے عجیب سا احساس ہونے لگا تھا.
اسکی بیوی ہوکر بھی وہ اس سے دور تھی .کیا اسکا دل نہیں ترستا ہوگا
کس طرح اسنے دل پہ قابو رکھا تھا وہ نہیں جانتی تھی.
رات کے اس پہر اسے خود سے اعتراف کرنا پڑا کہ وہ بھی اسکی محبت میں گرفتار ہوچکی ہے لیکن وہ مزید اسکے سامنے نہیں جھکے گی اگر وہ طلاق دے گا تو بھی وہ منع نہیں کرے گی.دماغ کی ضد اسے کھائی میں پھینک رہی تھی .وہ ان دونوں کی جنگ میں پس کر رہ گئی تھی.
…….


