منتخب نظمیں
غم بِکتے ہیں . غم بِکتے ہیں بازاروں میں غم کافی مہ…

غم بِکتے ہیں
.
غم بِکتے ہیں
بازاروں میں
غم کافی مہنگے بِکتے ہیں
لہجے کی دُکان اگر چل جائے تو
جذبے کے گاہک
چھوٹے بڑے ہر غم کے کھلونے
منہ مانگی قیمت پہ خریدیں
میں نے
ہمیشہ اپنے غم اچّھے داموں بیچے ہیں
لیکن
جو غم مجھ کو آج ملا ہے
کسی دُکاں پر رکھنے کے قابل ہی نہیں ہے
پہلی بار میں شرمندہ ہوں
یہ غم بیچ نہیں پاؤں گا
.
جاوید اختر
.
غم بِکتے ہیں
بازاروں میں
غم کافی مہنگے بِکتے ہیں
لہجے کی دُکان اگر چل جائے تو
جذبے کے گاہک
چھوٹے بڑے ہر غم کے کھلونے
منہ مانگی قیمت پہ خریدیں
میں نے
ہمیشہ اپنے غم اچّھے داموں بیچے ہیں
لیکن
جو غم مجھ کو آج ملا ہے
کسی دُکاں پر رکھنے کے قابل ہی نہیں ہے
پہلی بار میں شرمندہ ہوں
یہ غم بیچ نہیں پاؤں گا
.
جاوید اختر