منتخب غزلیں

جس طرف سے بھی ملاوٹ کی رَسد ہے ، رَد ہے ایک رتّی ب…

جس طرف سے بھی ملاوٹ کی رَسد ہے ، رَد ہے
ایک رتّی بھی اگر خواہشِ بَد ہے ، رَد ہے

دُکھ دئیے ہیں زرِ خالِص کی پرکھ نے’ لیکن
جس تعلّق میں کہیں کِینہ و کد ہے ، رد ہے

امن لکھنا نہیں ‘ سیکھیں جنہیں پڑھ کر بچّے
ان کتابوں پہ کسی کی بھی سند ہے ، رد ہے

جب چڑھائی پہ مرِا ہاتھ نہ تھاما تُو نے
اب یہ چوٹی پہ جو بے فیض مدد ہے ، رد ہے

اس لگاوٹ بھرے لہجے کی جگہ ہے دل میں
تہنیت میں جو ریا اور حسد ہے ، رد ہے!

اپنی سرحد کی حفاظت پہ ہے ایمان مگر
زندگی اور محبّت پہ جو حد ہے ، رد ہے

اس سے کہنا کہ یہ تردید کوئی کھیل نہیں
جو مرِی بات کو دہرائے کہ ردہے ، رد ہے!!

(حمیدہ شاہین)

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/