اِس دل کو چھوڑ کر کہیں جانا تو ہے نہیں …

یادوں کا اور کوئی ٹھکانہ تو ہے نہیں
جانے لگو تو روکنے والا نہیں کوئی
ورنہ تمہارے پاس بہانہ تو ہے نہیں
وہ ہم سے بد گُمان اگر ہے تو لاکھ ہو
ہم نے اُسے یقین دِلانا تو ہے نہیں
قَصد ِ سفر کے بعد ٹھہَرنا فضُول ہے
ہم نے کسی سے مِلنا مِلانا تو ہے نہیں
دے کر اذیّتیں ہمیں ‘ کہتے ہیں وہ یہی
میری مراد تُم کو ستانا تو ہے نہیں
ہم ہیں مسافران ِ رَہ ِ شوق آج بھی
ورنہ محبّتوں کا زمانہ تو ہے نہیں
بے نام ہو گئے ہیں تو نامی ! نہیں ہے غم
ویسے بھی ہم نے نام کمانا تو ہے نہیں
( رُستم نامی )


