منتخب غزلیں

اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے

کل تنویر سپرا کی برسی تھی۔
تبویر سپرا مزدور شاعر تھے۔ آپ کا تعلق جہلم سے تھا۔ جہلم ہی میں ایک مل میں آئل مین تھے۔۔
ان کی قبر کے کتبے پر ان کے یہ چار شعر لکھے ہیں:

وہ آپ کا ہے جس کی طبیعت میں ہے تضاد
میرا خدا تو صرف غفور الرحیم ہے

محسوس کرو مجھ کو میرا جسم نہ ڈھونڈو
میں فصل بہاراں کی جنوں خیز ہوا ہوں

موجود تھا, موجود ہوں ، موجود رہوں گا
تم دفن کرو، صورت سبزہ میں اٹھوں گا

اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے
دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے شعر دیکھیں ذرا۔۔

کتنا بعد ہے میرے فن اور پیشہ کے مابین
باہر دانشور ہوں لیکن مل میں آئل مین

آج بھی سپراؔ اس کی خوشبو مل مالک لے جاتا ہے
میں لوہے کی ناف سے پیدا جو کستوری کرتا ہوں

اب تک مرے اعصاب پہ محنت ہے مسلط
اب تک مرے کانوں میں مشینوں کی صدا ہے

مل مالک کے کتے بھی چربیلے ہیں
لیکن مزدوروں کے چہرے پیلے ہیں

دیہات کے وجود کو قصبہ نگل گیا
قصبے کا جسم شہر کی بنیاد کھا گئی

ہم حزب اختلاف میں بھی محترم ہوئے
وہ اقتدار میں ہیں مگر بے وقار ہیں

عورت کو سمجھتا تھا جو مردوں کا کھلونا
اس شخص کو داماد بھی ویسا ہی ملا ہے

میں اپنے بچپنے میں چھو نہ پایا جن کھلونوں کو
انہی کے واسطے اب میرا بیٹا بھی مچلتا ہے

شاید یوں ہی سمٹ سکیں گھر کی ضرورتیں
تنویرؔ ماں کے ہاتھ میں اپنی کمائی دے

تیری تو آن بڑھ گئی مجھ کو نواز کر
لیکن مرا وقار یہ امداد کھا گئی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/