منتخب غزلیں
( غیــر مطبــوعــہ ) ہے تو یہ بھی ولایتی سِگرٹ پر…

( غیــر مطبــوعــہ )
ہے تو یہ بھی ولایتی سِگرٹ
پر جو ہوتی ہے آپ کی سگرٹ
بن رہا ہے دُھویں سے تیرا عکس
کر رہی ہے مصــوّری سگرٹ
ہے غنیمت کہ اِس خرابے میں
یار لوگوں نے بانٹ لی سگرٹ
اب بھی کوئی جواز بنتا ہے؟
تیرے کہنے پہ چھوڑ دی سگرٹ
اِس تعلُّق میں کچھ نہیں باقی
کون کھینچے بُجھی ہوئی سگیٹ
اک اذیّت میں دن گزرتا ہے
آپ کی یاد، نوکری، سگرٹ !!!
یار کچھ اور مانگ لے مجھ سے
کون دیتا ہے آخِــری سگرٹ
( شــــاہ زیبــــــــــؔ خـــــان )



