منتخب غزلیں
آج کا لفظ قربت: ظاہری یا معنوی نزدیکی نیز تقرب، ر…

آج کا لفظ
قربت: ظاہری یا معنوی نزدیکی نیز تقرب، رشتہ داری
………
جدا تھے ہم تو میسر تھیں قربتیں کتنی
بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا
فیض احمد فیض
…….
اتنی قربت کسی سے مت رکھو
کچھ ضروری ہے فاصلہ رکھنا
آصفہ زمانی
……
اس کی قربت پر نہ اتراؤ امیرؔ
موج کب ہوتی ہے ساحل آشنا
امید فاضلی
…….
بے بسی بھی کبھی قربت کا سبب بنتی ہے
رو نہ پائیں تو گلے یار سے لگ جاتے ہیں
احمد فراز
…….
تیری قربت میں گزارے ہوئے کچھ لمحے ہیں
دل کو تنہائی کا احساس دلانے والے
شہزاد احمد
…….
ساعتیں جو تری قربت میں گراں گزری تھیں
دور سے دیکھوں تو اب وہ بھی بھلی لگتی ہیں
زہرا نگاہ
……..
جس قدر نفرت بڑھائی اتنی ہی قربت بڑھی
اب جو محفل میں نہیں ہے وہ تمہارے دل میں ہے
آرزو لکھنوی
…….
جب بھی تری قربت کے کچھ امکاں نظر آئے
ہم خوش ہوئے اتنے کی پریشاں نظر آئے
صادق نسیم
…….
تیری قربت میں یہ پردیس سے آیا ہوا شخص
چھوڑ کر تجھ کو کہیں اور بھی جا سکتا ہے
مقبول حسین سید کرنل
…….
تیری دوری بھی ہے مشکل تری قربت بھی محال
کس قدر تو نے مری جان ستایا ہے مجھے
جمیل یوسف
……
حریفوں کی طرف داری سے اپنا پن کا دم ٹوٹا
بڑھی کچھ اور جب دوری تو قربت کا بھرم ٹوٹا
کوثر سیوانی
……..
یوں تو بے چینیاں مقدر تھیں
تیری قربت نے اور تڑپایا
مہیش چندر نقش
……
بشکریہ ریختہ روزن
قربت: ظاہری یا معنوی نزدیکی نیز تقرب، رشتہ داری
………
جدا تھے ہم تو میسر تھیں قربتیں کتنی
بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا
فیض احمد فیض
…….
اتنی قربت کسی سے مت رکھو
کچھ ضروری ہے فاصلہ رکھنا
آصفہ زمانی
……
اس کی قربت پر نہ اتراؤ امیرؔ
موج کب ہوتی ہے ساحل آشنا
امید فاضلی
…….
بے بسی بھی کبھی قربت کا سبب بنتی ہے
رو نہ پائیں تو گلے یار سے لگ جاتے ہیں
احمد فراز
…….
تیری قربت میں گزارے ہوئے کچھ لمحے ہیں
دل کو تنہائی کا احساس دلانے والے
شہزاد احمد
…….
ساعتیں جو تری قربت میں گراں گزری تھیں
دور سے دیکھوں تو اب وہ بھی بھلی لگتی ہیں
زہرا نگاہ
……..
جس قدر نفرت بڑھائی اتنی ہی قربت بڑھی
اب جو محفل میں نہیں ہے وہ تمہارے دل میں ہے
آرزو لکھنوی
…….
جب بھی تری قربت کے کچھ امکاں نظر آئے
ہم خوش ہوئے اتنے کی پریشاں نظر آئے
صادق نسیم
…….
تیری قربت میں یہ پردیس سے آیا ہوا شخص
چھوڑ کر تجھ کو کہیں اور بھی جا سکتا ہے
مقبول حسین سید کرنل
…….
تیری دوری بھی ہے مشکل تری قربت بھی محال
کس قدر تو نے مری جان ستایا ہے مجھے
جمیل یوسف
……
حریفوں کی طرف داری سے اپنا پن کا دم ٹوٹا
بڑھی کچھ اور جب دوری تو قربت کا بھرم ٹوٹا
کوثر سیوانی
……..
یوں تو بے چینیاں مقدر تھیں
تیری قربت نے اور تڑپایا
مہیش چندر نقش
……
بشکریہ ریختہ روزن



