منتخب غزلیں
رہِ بے سائباں سے کوئی رشتہ جوڑ کر دیکھوں میں اپنے …
رہِ بے سائباں سے کوئی رشتہ جوڑ کر دیکھوں
میں اپنے شہر کی ساری فصیلیں توڑ کر دیکھوں
میں اپنے شہر کی ساری فصیلیں توڑ کر دیکھوں
ہوا کے رُخ پہ اُڑتے ابر کو روکوں بھلا کیسے
جو رستہ خشک ہے تو آبلہ ہی پھوڑ کر دیکھوں
تعین تو کروں کس سمت میں مجھ کو بھٹکنا ہے
کسی کے ساتھ ہو لوں یا کسی کو چھوڑ کر دیکھوں
تمہارا عکس میری آنکھ پر کیوں کھل نہیں پاتا
اس آئینے کے اندر کیا ہے اس کو توڑ کر دیکھوں
مجھے لگتا تو ہے میں بھی کسی رستے کی منزل ہوں
ذرا اک زندگی کے زاویے کو موڑ کر دیکھوں
(یاسمین حمید)
المرسل:-: ابوالحسن علی ندوی(بھٹکلی)


