منتخب غزلیں
فنا ؔ بلند شہری عِشق تخلیق ہُوا حُسن پہ مِٹ جا…

فنا ؔ بلند شہری
عِشق تخلیق ہُوا حُسن پہ مِٹ جانے کو
شمع افسُردہ نہ ہو پُھونک کے پروانے کو
غمِ دُنیا ،غمِ ہستی، غمِ اُلفت، غمِ دل
کتنے عُنوان مِلے ہیں مِرے افسانے کو
پھر سے آ جائے گی دیکھو تنِ بے جان میں جان
آپ آواز تو دیجیےذرا دِیوانے کو
بیخودی میں بھی تِرا نام لئے جاتے ہیں
رَوگ یہ کیسا لگا ہے تِرے مستانے کو
تجھ سے بس اِتنی طلب ہے تِرے دِیوانے کی
اپنے جلوؤں سے سجا دے مِرے غم خانے کو
شُعلۂ دردِ محبّّت کوئی بھڑکائے تو
ہم تو تیار ہیں اِس آگ میں جل جانے کو
گر مِرا شوقِ جبیں سائی سلامت ہے فناؔ
کعبہ اِک روز بنا دوں گا صنم خانے کو
فنا ؔ بلند شہری



