منتخب غزلیں

( غیــر مطـبــوعــہ ) نہیں ہے وَجہہ ضروری کہ جب ہ…

( غیــر مطـبــوعــہ )

نہیں ہے وَجہہ ضروری کہ جب ہو ‘ تب مر جائیں
اداس لوگ ہیں ‘ ممکن ہے ۔۔۔۔۔ بے سبب مر جائیں

ہماری نیند کا دورانیـہ ہے رُوز افــزُوں
کوئی بعـیـد نہیں ہے کہ ایک شب مر جائیں

یہ مرنے والوں کو رونے کا سـلسـلہ نہ رہے
کچھ ایسا ہو کہ بَہ یک وقت ۔۔۔ سب کے سب مر جائیں

یہ اہل ہجـر ۔۔۔۔۔ شـفا یاب تو نہیں ہوں گے
کوئی دَوا ہو کہ جس سے یہ جاں بَہ لب ‘ مر جائیں

یہ موتیـا تو نہیں ہے’ سـفیـد لاشـیں ہیں
ابُھر کے سطح پَہ آتے ہیں خواب ‘ جب مر جائیں

ہماری نبض ۔۔۔۔ سمجھ لے’ ہمارے ہاتھ میں ہے
تو صِرف حُکم دے ‘ بَس دن بتا کہ کب مر جائیں

نہ کوئی روکنے والا ‘ نہ دریا دُور ۔۔ مگر
سنا ہے’ پیاس سے مرنا ہے مسـتحَب’ مر جائیں؟

یقین کر کہ کئی بار ۔۔۔۔ ایک دن میں ‘ عمیــرؔ !
ہم اپنے آپ سے کہتے ہیں : یار! اب مر جائیں

( عُمیــرؔ نجــمـی )

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/