منتخب نظمیں

گناہ گار . بات کرنے کی کب ملی مہلت حال اک دو…

گناہ گار
.
بات کرنے کی کب ملی مہلت
حال اک دوسرے کا کب پوچھا
چاندنی رات کے دریچے میں
اس نے یہ ہاتھ، ہاتھ میں نہ لیا
بارشوں میں کبھی نہ بھیگے ساتھ
دھوپ میں ڈھونڈ پائے کب سایا
اس نے باندھا نہیں کوئی پیماں
میں نے مانگا نہیں کوئی وعدہ
کچھ عجب طرز کی محبت تھی
کچھ عجب طرح کا یہ عشق ہوا
.
یونہی اک پھول کے چٹکنے پر
طالبِ موسمِ بہار ہیں ہم
زندگی کے طویل رستے پر
اک نظر کے گناہ گار ہیں ہم
.
ثمینہ راجا

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/