منتخب غزلیں

علامہ شبلی نعمانی پوچھتے کیا ہو جو حال شب تنہائی …

علامہ شبلی نعمانی

پوچھتے کیا ہو جو حال شب تنہائی تھا
رخصت صبر تھی یا ترک شکیبائی تھا

میں تھا یا دیدہ خوننابہ فشاں تھی شب ہجر
ان کو واں مشغلہ انجمن آرائی تھا

خون رو رو دیے بس،دو ہی قدم میں چھالے
یاں وہی حوصلہ بادیہ پیمائی تھا

دشمن جاں تھے ادھر ہجر میں درد و غم و رنج
اور ادھر ایک اکیلا تر شیدائی تھا

انگلیاں اٹھتی تھیں مژگاں کی اسی رخ پیہم
جس طرف بزم میں وہ کافر ترسائی تھا

کون اس راہ سے گزرا ہے کہ ہر نقش قدم
چشم عاشق کی طرح اس کا تماشائی تھا

ہم نے بھی حضرت شبلیؔ کی زیارت کی تھی
یوں تو ظاہر میں مقدس تھا یہ شیدائی تھا


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/