منتخب غزلیں

مخدومؔ محی الدین – فیض احمد فیض – رؤف خلش ………..

مخدومؔ محی الدین – فیض احمد فیض – رؤف خلش
………………..
مخدومؔ محی الدین
بڑھ گیا بادۂ گلگوں کا مزا آخر شب
اور بھی سرخ ہے رخسار حیا آخر شب
منزلیں عشق کی آساں ہوئیں چلتے چلتے
اور چمکا ترا نقش کف پا آخر شب
کھٹکھٹا جاتا ہے زنجیر در مے خانہ
کوئی دیوانہ کوئی آبلہ پا آخر شب
سانس رکتی ہے چھلکتے ہوئے پیمانے میں
کوئی لیتا تھا ترا نام وفا آخر شب
گل ہے قندیل حرم گل ہیں کلیسا کے چراغ
سوئے پیمانہ بڑھے دست دعا آخر شب
ہائے کس دھوم سے نکلا ہے شہیدوں کا جلوس
جرم چپ سر بہ گریباں ہے جفا آخر شب
اسی انداز سے پھر صبح کا آنچل ڈھلکے
اسی انداز سے چل باد صبا آخر شب
………
فیض احمد فیض
یاد کا پھر کوئی دروازہ کھلا آخر شب
دل میں بکھری کوئی خوشبوئے قبا آخر شب
صبح پھوٹی تو وہ پہلو سے اٹھا آخر شب
وہ جو اک عمر سے آیا نہ گیا آخر شب
چاند سے ماند ستاروں نے کہا آخر شب
کون کرتا ہے وفا عہد وفا آخر شب
لمس جانانہ لیے مستیٔ پیمانہ لیے
حمد باری کو اٹھے دست دعا آخر شب
گھر جو ویراں تھا سر شام وہ کیسے کیسے
فرقت یار نے آباد کیا آخر شب
جس ادا سے کوئی آیا تھا کبھی اول شب
”اسی انداز سے چل باد صبا آخر شب”
…….
رؤف خلش
تو نے کی زخم شماری بھی تو کیا آخر شب
دم دلاسہ رہا دستور ترا آخر شب
وقتِ پرواز ہر اک پنکھ نُچا ہے تو نہ ڈر
آسماں والوں میں ہلچل ہی مچا آخر شب
رات بھر خوابوں کےشیشوں کو بچائے رکھا
سنگ اندازوں کی بستی میں لٹا آخر شب
ہوشمندی ہےترے شہر میں ، قحطِ غم ہے
ڈھونڈ کر اب کسی دیوانےکو لا آخر شب
رت جگے ہم نےکئےہم پہ ہی الزام آئے
یہ ملی جاگتےرہنے کی سزا آخر شب
یا اندھیروں کو عطا کردےاجالوں کا مزاج
یا مری آنکھوں میں سورج نہ اُگا آخر شب
ہم نشینی تو حریفوں نے ہی بخشی تھی خلشؔ
سرپھرا میں ہی تھا ، پہلو سے اُٹھا آخر شب
رؤف خلشؔ


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/