منتخب غزلیں

ان کو جگر کی جستجو، ان کی نظر کو کیا کروں مجھ کو ن…

ان کو جگر کی جستجو، ان کی نظر کو کیا کروں
مجھ کو نظر کی آرزو، اپنے جگر کو کیا کروں

رات ہی رات میں تمام، طے ہوئے عمر کے مقام
ہو گئی زندگی کی شام، اب میں سحر کو کیا کروں

وحشتِ دل فزوں تو ہے، حال میرا زبوں تو ہے
عشق نہیں جنوں تو ہے، اس کے اثر کو کیا کروں

فرش سے مطمئن نہیں، پست ہے نا پسند ہے
عرش بہت بلند ہے، ذوقِ نظر کو کیا کروں

ہائے کوئی دوا کرو، ہائے کوئی دعا کرو
ہائے جگر میں درد ہے، ہائے جگر کو کیا کروں

اہلِ نظر کوئی نہیں اس لیے خود پسند ہوں
آپ ہی دیکھتا ہوں میں اپنے ہنر کو کیا کروں

ترکِ تعلقات پر گر گئی برقِ التفات
راہ گزر میں مل گئے، راہ گزر کو کیا کروں

حفیظؔ جالندھری

المرسل: فیصل خورشید


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/