منتخب غزلیں
دیکھتی آنکھوں نے دیکھا ہے شبستانوں میں جذبہ مرنے ک…

دیکھتی آنکھوں نے دیکھا ہے شبستانوں میں
جذبہ مرنے کا ابھی زندہ ہے پروانوں میں
جذبہ مرنے کا ابھی زندہ ہے پروانوں میں
کتنا پُرہول ہے ماحول شبِ فرقت کا
خون بھی خشک ہوا جاتا ہے شریانوں میں
کام آیا نہ گلا پھاڑنا اے شیخ ترا
نظر آتی وہی رونقیں میخانوں میں
ستمِ تازہ پہ یوں شکرِ ستم کرتا ہوں
جیسے اک اور اضافہ ہوا احسانوں میں
اے وفاؔ اہل زباں کی ہے عنایت یہ بھی
کہ شمار آج ہمارا ہے زباں دانوں میں
(میلہ رام وفاؔ)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی






