کسی سے دور ہو کر شادماں رہنے پہ مائل ہیں مگر نیرنگ…
مگر نیرنگئ دردِ نہاں کے ہم بھی قائل ہیں
عجب کیا؟ کھوئے کھوئے سے جو رہتے ہیں ترے آگے
ہمارے درمیاں اے دوست! لاکھوں خواب حائل ہیں
نگاہِ ناز سو سو طرح سے ہے مہرباں، لیکن
وہ تاثیرِ محبّت کے نہ قائل تھے، نہ قائل ہیں
وہ میرا درد ہے، وحشت ہے جس سے اک زمانے کو
وہ تیرا حُسن ہے، اہلِ دو عالم جس پہ مائل ہیں
یہ تیری چارہ سازی سربسر اعجاز ہے، لیکن
وہ دردِ لادوا ہے جس کے اہلِ شوق گھائل ہیں
یہ اُن کی بیرخی برحق، بجا کبر و غرور اُن کا
سراپا ناز ہیں، گُلرنگ ہیں، زہرہ شمائل ہیں
دو عالم ہو چکے ہیں اُن پر اے شیخِ حرم صدقے
تجھے معلوم بھی ہے اہلِ دل کس در کے سائل ہیں؟
بہت کچھ ہے ابھی اے مہرباں جیبِ محبّت میں
یہ مانا رنگِ رُخ، ہوش و حواس و صبر زائل ہیں
فرازِ طورِ سینا، بت کدے، کعبے کا دروازہ
ابھی راہِ محبّت میں در و دیوار حائل ہیں
نیاز و ناز کا عالم ہے دن کا ڈوبنا ہمدم
ہواؤں کی بہم سرگوشیاں سننے کے قابل ہیں
فراقؔ اُس سے چھڑی ہے بحثِ الفت، دیکھیے کیا ہو؟
معاون ساری باتیں ہیں، موافق سب دلائل ہیں
(رگھوپتی سہائے فراقؔ گھورکپوری)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی



