مکہ کی گلیوں میں ایک خبر پھیلی۔ مگر اس خبر پر کسی…
مگر اس خبر پر کسی کے گھر میں ماتم نہیں تھا۔
کچھ چہروں پر مسکراہٹ تھی۔
رسول اللہ ﷺ کے دوسرے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تھا۔
ایک باپ کے لیے یہ کیسا لمحہ ہوتا ہے، اسے وہی جان سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے جگر کا ٹکڑا مٹی کے سپرد کیا ہو۔
مگر مکہ کے کچھ لوگوں کے لیے یہ غم نہیں، خوشی کی خبر تھی۔
ابو لہب تو پہلے ہی رسول اللہ ﷺ کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔
آج تو جیسے اسے اپنی خوشی کا ایک اور بہانہ مل گیا تھا۔
صبح ہوئی تو وہ ایک گھر سے دوسرے گھر جانے لگا۔
اور لوگوں کو خبر سناتے ہوئے طنز سے کہتا:
"اَبْتَرَ مُحَمَّدٌ اللَّیْلَةَ”
محمد ﷺ کی جڑ آج رات کٹ گئی۔
نعوذ باللہ۔
وہ سمجھتا تھا کہ بیٹے کے چلے جانے کے ساتھ محمد ﷺ کا مستقبل بھی ختم ہو گیا۔
جیسے ایک درخت کی جڑ کاٹ دی جائے تو اس کے لیے کھڑا رہنا ممکن نہیں رہتا۔
—
پھر مکہ کے ایک اور سردار نے اس طعنے کو اپنا ہتھیار بنا لیا۔
عاص بن وائل۔
جب بھی رسول اللہ ﷺ کا ذکر ہوتا، وہ تحقیر سے کہتا:
"انہیں چھوڑو… وہ تو ابتر ہیں۔”
وہ یہ لفظ صرف زبان سے نہیں بولتا تھا۔
وہ چاہتا تھا کہ یہ لفظ لوگوں کے ذہنوں میں گھر کر جائے۔
کہ محمد ﷺ کی نسل باقی نہیں رہے گی۔
کہ ان کا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔
کہ ان کا ذکر وقت کے ساتھ مٹ جائے گا۔
اور سب سے بڑھ کر—
وہ چاہتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے دل کا زخم ہر بار تازہ ہو۔
مسلمان گلیوں سے گزرتے تو پیچھے سے آواز آتی:
"ابتر!”
پھر دوسری طرف سے:
"ابتر!”
ایک لفظ۔
مگر ہر بار جیسے کسی زخمی دل پر تیر۔
—
پھر آسمان نے جواب دیا۔
اور ایسا جواب آیا جس نے مکہ کی زبان ہی بدل دی۔
إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ
بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی۔
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔
پھر آخری ضرب آئی:
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ
بے شک آپ سے بغض رکھنے والا ہی ابتر ہے۔
بس۔
وہی لفظ…
جو دشمن نے طعنہ بنا کر پھینکا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے اٹھایا اور اسی دشمن کی طرف لوٹا دیا۔
ابتر محمد ﷺ نہیں تھے۔
ابتر تو وہ تھا جو محمد ﷺ سے بغض رکھتا تھا۔
—
مکہ نے ایک عجیب منظر دیکھا۔
کل تک لوگ ایک لفظ سنتے تھے:
ابتر۔
اب ایک دوسرا لفظ ہر طرف گونجنے لگا:
کوثر۔
"کوثر کیا ہے؟”
لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے۔
بازاروں میں بات ہونے لگی۔
محفلوں میں سوال ہونے لگا۔
اہلِ زبان سے پوچھا جانے لگا۔
اہلِ علم کی طرف لوگ جانے لگے۔
وہ لوگ جو کل تک "ابتر” کا لفظ پھیلا رہے تھے، اب خود ایک نئے لفظ کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔
کوثر۔
یہ لفظ ان کے پروپیگنڈے پر ایسا چھایا کہ ان کا پھیلایا ہوا "ابتر” خود پس منظر میں چلا گیا۔
انہوں نے ایک لفظ سے محمد ﷺ کا نام مٹانا چاہا تھا۔
اللہ نے ایک لفظ سے ان کے پورے منصوبے کو بے معنی کر دیا۔
—
عرب کی زبان اپنی فصاحت پر ناز کرتی تھی۔
شاعروں کا کلام کعبہ کے گرد اپنی جگہ بناتا تھا۔
اعلان ہوتے تھے۔
چیلنج دیے جاتے تھے۔
"اگر اس کلام کا جواب ہے تو لاؤ۔”
مگر قرآن سامنے آیا تو معاملہ بدل گیا۔
سورۃ الکوثر—
صرف تین آیات۔
چھوٹی سی سورت۔
مگر ایسی تاثیر کہ بڑے بڑے فصحاء خاموش رہ گئے۔
وہ جواب دینا چاہتے تھے۔
مقابلہ کرنا چاہتے تھے۔
مگر جس زبان پر انہیں فخر تھا، اسی زبان نے ان کے ہاتھ باندھ دیے۔
آخرکار وہ عاجز ہو کر رہ گئے۔
کیونکہ یہ انسانی کلام نہیں تھا۔
—
ذرا غور کیجیے۔
دشمن نے کہا:
"ابتر!”
اللہ نے فرمایا:
"کوثر!”
دشمن نے کہا:
"ان کی نسل نہیں رہے گی۔”
اللہ نے عطا فرمائی:
خیرِ کثیر۔
دشمن نے کہا:
"ان کا نام مٹ جائے گا۔”
اللہ نے فرمایا:
"وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ”
اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔
—
صدیاں گزر گئیں۔
وہ لوگ کہاں ہیں جو "ابتر” کہتے تھے؟
وہ زبانیں کہاں ہیں جو رسول اللہ ﷺ کا نام سن کر تمسخر کرتی تھیں؟
وہ محفلیں کہاں ہیں جہاں یہ منصوبہ بنایا جاتا تھا کہ محمد ﷺ کا نام وقت کے ساتھ مٹ جائے گا؟
سب گزر گئے۔
مگر محمد ﷺ کا نام؟
آج بھی فجر کے وقت بلند ہوتا ہے۔
آج بھی اذان میں بلند ہوتا ہے۔
آج بھی بچے جب قرآن پڑھتے ہیں تو اس نام کی محبت ان کے دل میں اترتی ہے۔
آج بھی کروڑوں زبانیں درود بھیجتی ہیں۔
اور قیامت تک بھیجتی رہیں گی۔
جنہوں نے سمجھا تھا کہ نام اولاد سے باقی رہتے ہیں،
انہیں تاریخ نے بتا دیا کہ نام صرف اولاد سے نہیں رہتے۔
کچھ نام اللہ خود باقی رکھتا ہے۔
—
وہ شخص جسے "ابتر” کہا گیا تھا—
اس کا ذکر آج زمین کے ہر خطے میں ہے۔
اور وہ لوگ جنہوں نے اسے "ابتر” کہا تھا—
ان کے نام آج صرف اس لیے باقی ہیں کہ وہ اس عظیم ہستی کے دشمن تھے۔
کیا عجیب فیصلہ ہے وقت کا۔
جس نام کو مٹانے نکلے تھے،
اپنا نام مٹوا بیٹھے۔
اور جسے بے نسل، بے نشان اور بے ذکر سمجھ رہے تھے—
اس کا ذکر قیامت تک بلند کر دیا گیا۔
یہ صرف تاریخ نہیں۔
یہ اللہ کا فیصلہ ہے۔
اور اللہ کے فیصلے کے سامنے زمانے کے سارے شور آخرکار خاموش ہو جاتے ہیں۔
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ
بے شک آپ ﷺ سے بغض رکھنے والا ہی ابتر ہے۔
اور شاید اس واقعے کا سب سے گہرا جواب یہی ہے:
جڑ وہ نہیں کٹتی جس کا ایک درخت دنیا سے چلا جائے؛
جڑ وہ کٹتی ہے جس کا نام دنیا کے دلوں سے مٹ جائے۔
اور محمد ﷺ کا نام؟
وہ تو اللہ نے خود بلند کر دیا۔
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ۔

