منتخب غزلیں

مرے حبیب مری مسکراہٹوں پہ نہ جا خدا گواہ مجھے آج ب…

مرے حبیب مری مسکراہٹوں پہ نہ جا
خدا گواہ مجھے آج بھی ترا غم ہے
——
احمد راہی کا یوم وفات
(پیدائش: 12 نومبر 1923ء – وفات: 2 ستمبر 2002ء)
——
منتخب کلام
——
میں تو مسجد سے چلا تھا کسی کعبہ کی طرف
دکھ تو یہ ہے کہ عبادت مری بد نام ہوئی
——
مرے حبیب مری مسکراہٹوں پہ نہ جا
خدا گواہ مجھے آج بھی ترا غم ہے
——
دل سے دل نظروں سے نظروں کے الجھنے کا سماں
جیسے صحراؤں میں نیند آئی ہو دیوانوں کو
——
جس طرف جائیں جہاں جائیں بھری دنیا میں
راستہ روکے تری یاد کھڑی ہوتی ہے
——
درد کی بات کسی ہنستی ہوئی محفل میں
جیسے کہہ دے کسی تربت پہ لطیفہ کوئی
——
قد و گیسو لب و رخسار کے افسانے چلے
آج محفل میں ترے نام پہ پیمانے چلے
——
دل پہ جب درد کی افتاد پڑی ہوتی ہے
دوستو! وہ تو قیامت کی گھڑی ہوتی ہے
جس طرف جائیں ، جہاں جائیں بھری دنیا میں
راستہ روکے تری یاد کھڑی ہوتی ہے
جس نے مَر مَر کے گزاری ہو ، یہ اس سے پوچھو
ہجر کی رات بھلا کتنی کڑی ہوتی ہے
ہنستے ہونٹوں سے بھی جھڑتے ہیں فسانے غم کے
خشک آنکھوں میں بھی ساون کی جھڑی ہوتی ہے
جب کوئی شخص ، کہیں ذکرِ وفا کرتا ہے
دل کو اے دوستو! تکلیف بڑی ہوتی ہے
اس طرح بیٹھے ہیں وہ آج مری محفل میں
جس طرح شیشے میں تصویر جڑی ہوتی ہے
——
دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا
درد پہلو سے جدا ہو کے کہاں جائے گا
کون ہوتا ہے کسی کا شبِ تنہائی میں
غمِ فرقت ہی غمِ عشق کو بہلائے گا
چاند کے پہلو میں دَم سادھ کے روتی ہے کرن
آج تاروں کا فسوں خاک نظر آئے گا
راکھ میں آگ بھی ہے غمِ محرومی کی
راکھ ہو کر بھی یہ شعلہ ہمیں سلگائے گا
وقت خاموش ہے روٹھے ہوئے یاروں کی طرح
کون لَو دیتے ہوئے زخموں کو سہلائے گا
دھوپ کو دیکھ کے اس جسم پہ پڑتی ہے چمک
چھاؤں دیکھیں گے تو اس زلف کا دھیان آئے گا
زندگی! چل کہ ذرا موت کا دم خم دیکھیں
ورنہ یہ جذبہ لحَد تک ہمیں لے جائے گا
——
عام ھے کوچہ و بازار میں سرکار کی بات
اب سر راہ بھی ھوتی ھے ، سردار کی بات
ھم جو کرتے ھیں کہیں مصر کے بازار کی بات
لوگ پا لیتے ھیں یوسف کے خریدار کی بات
مدتوں لب پہ رھی نرگس بیمار کی بات
کیجیئے اہل چمن ، اب خلش خار کی بات
غنچے دل تنگ ،ھوا بند ، نشیمن ویراں
باعث مرگ ھے مرے لیے غم خوار کی بات
بوئے گل لے کے صبا کنج قفس تک پہنچی
لاکھ پردوں میں بھی پھیلی شب گلزار کی بات
زندگی درد میں ڈوبی ھوئی لے ھے راہی
ایسے عالم میں کسے یاد رھے پیار کی بات
——
گردش جام نہیں ، گردش ایام تو ھے
سعی ناکام سہی ، پھر بھی کوئی کام تو ھے
دل کی بے تابی کا آخر کہیں انجام تو ھے
میری قسمت میں نہیں ، دہر میں آرام تو ھے
مائل لطف و کرم حسن دلآرام تو ھے
میری خاطر نہ سہی ، کوئی سر بام تو ھے
تو نہیں میرا مسیحا ، میرا قاتل ھی سہی
مجھ سے وابستہ کسی طور ترا نام تو ھے
حلقہ موج میں ایک اور سفینہ آیا
ساحل بحر پر کہرام کا ہنگام تو ھے
تنگ دستو ، تہی دامانو ، کرو شکر خدا
مئے گلفام نہیں ھے ، شفق شام تو ھے
——
سن ونجلی دی مٹھڑی تان وے
فلم: ہیر رانجھا
سُن ونجلی دی مِٹھڑی تان وے
مَیں تاں ہو ہو گئی قربان وے
ونجلی دی تان وچ رُوح میری بولدی
عُمراں دے کجّے ہوئے بھیت پئی کھولدی
ساڈی ازلاں دی جان پچھان وے
مَیں تاں ہو ہو گئی قربان وے
دونویں پاسے چڑھی اے جوانی والی رُت وے
جِند ساڈی اِک ہوئی بھانویں دو بُت وے
مَینوں اپنے تُوں وکھری ناں جان وے
مَیں تاں ہو ہو گئی قربان وے
تک تک تینوں میرے نین نئیں رَجدے
تیرے بِناں بُلّیاں تے ہاسے نئیوں سجدے
شالا نِت تُوں جوانیاں مان وے
مَیں تاں ہو ہو گئی قربان وے!
…………….


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/