ہفتہ, مئی 16, 2026
الرئيسيةمنتخب نظمیںوہ صرف چودہ گھنٹے سوئی تھی… اور اگلی صبح… اسے “بری...

وہ صرف چودہ گھنٹے سوئی تھی… اور اگلی صبح… اسے “بری…

وہ صرف چودہ گھنٹے سوئی تھی…
اور اگلی صبح… اسے “بری ماں” قرار دے دیا گیا—
کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ سو نہیں رہی تھی… وہ ڈوبنے سے بچ رہی تھی۔

میرا نام عائشہ ملک ہے۔

ماں بننے سے پہلے مجھے لگتا تھا…
بچہ آتا ہے تو زندگی میں خوشیاں بڑھ جاتی ہیں۔

کسی نے یہ نہیں بتایا تھا…
کہ بعض اوقات خوشیوں کے ساتھ ایک ایسی خاموش تھکن بھی آتی ہے—
جو آہستہ آہستہ انسان کو اندر سے خالی کر دیتی ہے۔

میرا بیٹا حمزہ صرف ایک مہینے کا تھا…
اور اس ایک مہینے میں… میں جیسے خود سے دور ہوتی جا رہی تھی۔

نیند مجھ سے روٹھ گئی تھی۔
ہر آواز مجھے چونکا دیتی تھی۔
ہر سانس کے ساتھ ایک خوف جڑا ہوا تھا۔

کبھی لگتا… وہ سانس نہیں لے رہا۔
کبھی لگتا… میں کچھ غلط کر دوں گی۔
اور کبھی… بس یوں محسوس ہوتا… کہ میں ختم ہو رہی ہوں۔

اُس صبح… میں نے آئینے میں خود کو دیکھا۔
وہ میں نہیں تھی۔

آنکھوں میں کوئی روشنی نہیں تھی…
صرف ایک سوال تھا—

“کیا میں بچ پاؤں گی؟”

اور پہلی بار… جواب “نہیں” آیا۔

میں نے حمزہ کو اٹھایا…
اپنی ماں کے گھر گئی…
اور دروازہ کھلتے ہی کہا—

“ماں… مجھے سونا ہے…
اگر میں نہ سوئی… تو میں ٹوٹ جاؤں گی…”

انہوں نے مجھے دیکھا…
جیسے میرا فیصلہ نہیں… میرا کردار ناپ رہی ہوں۔

پھر وہی جملہ… جو ہر عورت سنتی ہے—

“ہر ماں یہ سب برداشت کرتی ہے…”

اس بار… میں خاموش نہیں رہی۔

“میں برداشت نہیں کرنا چاہتی…
میں زندہ رہنا چاہتی ہوں…”

اور میں چلی آئی۔

گھر آ کر میں بستر پر گری…
اور ایسی سوئی… جیسے کسی نے مجھے بند کر دیا ہو۔

جب آنکھ کھلی…
چودہ گھنٹے گزر چکے تھے۔

لیکن اصل جھٹکا… ابھی باقی تھا۔

میرا فون… فیصلے سنا رہا تھا۔

“کیسی ماں ہے یہ؟”
“بچے کو چھوڑ کر سو گئی؟”
“آج کل کی لڑکیاں…”

اور پھر… وہ ایک جملہ…

“حقیقی ماں اپنے بچے کو آرام کے لیے نہیں چھوڑتی۔”

میں سکرین کو دیکھتی رہی…

آرام؟

یہ آرام نہیں تھا…
یہ بقا تھی۔

کسی نے نہیں پوچھا—میں کب سوئی تھی۔
کسی نے نہیں دیکھا—میں کتنی ٹوٹ چکی تھی۔
کسی نے نہیں سمجھا—کہ میں اکیلی تھی…

میرا شوہر… اپنی دنیا میں مصروف تھا…
اور میں… اپنی سانسوں کو سنبھال رہی تھی۔

میں نے ماں کو فون کیا۔

“حمزہ ٹھیک ہے؟”

“وہ ٹھیک ہے…”
پھر ایک نرم سی آواز آئی—

“عائشہ… تم ٹھیک ہو؟”

یہ سوال… میرے لیے مرہم بن گیا۔

میں رو پڑی۔

“میں ڈرتی ہوں…
مجھے لگتا ہے میں اچھی ماں نہیں ہوں…
مجھے لگتا ہے میں خود کو کھو رہی ہوں…”

کچھ لمحے خاموشی رہی…

پھر ماں نے کہا—

“مجھے بھی ایسا ہی لگا تھا… جب تم پیدا ہوئی تھی…”

میں چونک گئی۔

انہوں نے کبھی نہیں بتایا تھا۔

“ہم نے اُس وقت خاموشی کو صبر سمجھ لیا تھا…”
وہ بولیں…
“لیکن میں تمہیں خاموش نہیں ہونے دوں گی…”

شام کو جب میں واپس گئی…
حمزہ اُن کے سینے پر سو رہا تھا۔

اتنا پُرسکون…
جیسے دنیا میں کوئی خوف نہ ہو۔

اور پہلی بار…
مجھے لگا… شاید میں بری ماں نہیں ہوں۔

ماں نے مجھے دیکھا اور کہا—

“تمہاری ساس آئی تھیں… کہہ رہی تھیں تم غیر ذمہ دار ہو…”

میں نے دھیمی آواز میں پوچھا—
“آپ نے کیا کہا؟”

انہوں نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا—

“میں نے کہا…
میری بیٹی کو زندہ رہنا ہے…
تب ہی وہ ماں بنے گی…”

اُس لمحے…
میرے اندر کچھ بدل گیا۔

کیونکہ سچ یہ ہے—

ہر ماں مضبوط نہیں ہوتی…
کچھ مائیں تھک جاتی ہیں… ٹوٹ جاتی ہیں…

اور جو ماں ٹوٹنے سے پہلے مدد مانگ لے—
وہ کمزور نہیں ہوتی…

وہ خود کو… اور اپنے بچے کو… بچا رہی ہوتی ہے۔

💬 آپ بتائیں…
کیا مدد مانگنے والی ماں کمزور ہوتی ہے… یا سب سے زیادہ بہادر؟

RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/