منتخب غزلیں

استاد شاعر بہزاد لکھنوی کے پوتے عزم بہزاد کا یوم …

استاد شاعر بہزاد لکھنوی کے پوتے عزم بہزاد کا یوم وفات
(پیدائش: 31 دسمبر، 1958ء- وفات: 4 مارچ، 2011ء)
——
منتخب کلام
——
کہاں گئے وہ لہجے دل میں پھول کھلانے والے
آنکھیں دیکھ کے خوابوں کی تعبیر بتانے والے
——
اتنے دعوؤں سے گذر کر یہ خیال آتا ہے
عزم کیا تم نے کبھی حرفِ ندامت لکھا
——
حکم تھا آنکھیں کھلی رکھّوں کہ شمعیں بجھ نہ جائیں
میں بھی اس خوبی سے جاگا جس نے دیکھا جل گیا
——
یہ ہنستا ہوا شور سنجیدگی کے لیے امتحاں ہے
سو محتاط رہنا کہ تہذیبِ آہ وفغاں کھو نہ جائے​
……………
اب کہاں ہیں نگہِ یار پہ مرنے والے
صورتِ شمع سرِ شام سنورنے والے
رونقِ شہر انہیں اپنے تجسس میں نہ رکھ
یہ مسافر ہیں کسی دل میں ٹھہرنے والے
کس قدر کرب میں بیٹھے ہیں سرِ ساحلِ غم
ڈوب جانے کی تمنا میں اُبھرنے والے
جانے کس عہدِ طرب خیز کی اُمید میں ہیں
ایک لمحے کو بھی آرام نہ کرنے والے
عزم یہ ضبط کے آداب کہاں سے سیکھے
تم تو ہر رنگ میں لگتے تھے بکھرنے والے
——
کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں
میں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میں
ایک نگاہ کا سناٹا ہے اک آواز کا بنجر پن
میں کتنا تنہا بیٹھا ہوں قربت کے ویرانے میں
آج اس پھول کی خوشبو مجھ میں پیہم شور مچاتی ہے
جس نے بے حد عجلت برتی کھلنے اور مرجھانے میں
ایک ملال کی گرد سمیٹے میں نے خود کو پار کیا
کیسے کیسے وصل گزارے ہجر کا زخم چھپانے میں
جتنے دکھ تھے جتنی امیدیں سب سے برابر کام لیا
میں نے اپنے آئندہ کی اک تصویر بنانے میں
ایک وضاحت کے لمحے میں مجھ پر یہ احوال کھلا
کتنی مشکل پیش آتی ہے اپنا حال بتانے میں
پہلے دل کو آس دلا کر بے پروا ہو جاتا تھا
اب تو عزمؔ بکھر جاتا ہوں میں خود کو بہلانے میں


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/