منتخب غزلیں
ممتاز شاعر خواجہ ریاض الدین عطش کا یومِ وفات (پیدا…

ممتاز شاعر خواجہ ریاض الدین عطش کا یومِ وفات
(پیدائش: 4 مارچ، 1925ء- وفات: 8 جنوری، 2001ء)
——
منتخب کلام
——
میں مصور ہوں کہ شاعر مجھے معلوم نہیں
میرے اشعار میں جذبات کی تصویریں ہیں
——
روشنی جس کی کسی اور کے کام آجائے
اک دیا ایسا بھی رستہ میں جلا کر رکھنا
——
دن بھر کی عطشؔ دھوپ کو دامن میں سمیٹے
میں شام کے سورج کی طرح ڈوب رہا ہوں
——
یا تو دیوانہ ہنسے یا تُو جسے توفیق دے
ورنہ اس دنیا میں آ کر مسکرا سکتا ہے کون
——
تم اپنی نسل کو اردو سے آشنا کر کے
زباں ، بیاں ، بہر عنواں سنبھال کے رکھو
رہے خیال کہ کوا چلے نہ ہنس کی چال
پروں کے رنگِ نمایاں سنبھال کے رکھو
——
اک تاج محل کے بنتے ہی سو ہاتھ قلم ہو جاتے ہیں
لیتی ہے خراج فن دنیا اس طور بھی ہم فنکاروں سے
——
چراغِ الفت کریں گے روشن محبتوں کو اجال دیں گے
نچوڑ کر دل کا قطرہ قطرہ وفا کے سانچے میں ڈھال دینگے
سجا کے ماتھے پہ چاند ٹیکا پہنا کے تاروں کے پھول گہنے
تمہاری آنکھوں میں بھر کے کاجل کمالِ چشمِ غزال دینگے
——
یہ کم نگاہئ عشوہ گری معاذ اللہ
دل و نظر کی تری خود سری معاذ اللہ
درونِ دینِ محمد الگ الگ مسلک
تضادِ سلسلۂ بندگی معاذ اللہ
کہیں خودی ہے خدائی کہیں خودی خود ہیں
الگ الگ یہ مزاجِ خودی معاذ اللہ
سب اپنی اپنی جگہ بد گماں ہیں اپنوں سے
نہ رہبری نہ کوئی آگہی معاذ اللہ
بلا کی آندھیاں اٹھتی ہیں مومنوں کے لیے
نہ لے اڑے ہمیں طوفاں یہی معاذ اللہ
پیامِ یک جہتی پر ہوۓ ہیں سب خائف
عطش نے مول لی یہ دشمنی معاذ اللہ
(پیدائش: 4 مارچ، 1925ء- وفات: 8 جنوری، 2001ء)
——
منتخب کلام
——
میں مصور ہوں کہ شاعر مجھے معلوم نہیں
میرے اشعار میں جذبات کی تصویریں ہیں
——
روشنی جس کی کسی اور کے کام آجائے
اک دیا ایسا بھی رستہ میں جلا کر رکھنا
——
دن بھر کی عطشؔ دھوپ کو دامن میں سمیٹے
میں شام کے سورج کی طرح ڈوب رہا ہوں
——
یا تو دیوانہ ہنسے یا تُو جسے توفیق دے
ورنہ اس دنیا میں آ کر مسکرا سکتا ہے کون
——
تم اپنی نسل کو اردو سے آشنا کر کے
زباں ، بیاں ، بہر عنواں سنبھال کے رکھو
رہے خیال کہ کوا چلے نہ ہنس کی چال
پروں کے رنگِ نمایاں سنبھال کے رکھو
——
اک تاج محل کے بنتے ہی سو ہاتھ قلم ہو جاتے ہیں
لیتی ہے خراج فن دنیا اس طور بھی ہم فنکاروں سے
——
چراغِ الفت کریں گے روشن محبتوں کو اجال دیں گے
نچوڑ کر دل کا قطرہ قطرہ وفا کے سانچے میں ڈھال دینگے
سجا کے ماتھے پہ چاند ٹیکا پہنا کے تاروں کے پھول گہنے
تمہاری آنکھوں میں بھر کے کاجل کمالِ چشمِ غزال دینگے
——
یہ کم نگاہئ عشوہ گری معاذ اللہ
دل و نظر کی تری خود سری معاذ اللہ
درونِ دینِ محمد الگ الگ مسلک
تضادِ سلسلۂ بندگی معاذ اللہ
کہیں خودی ہے خدائی کہیں خودی خود ہیں
الگ الگ یہ مزاجِ خودی معاذ اللہ
سب اپنی اپنی جگہ بد گماں ہیں اپنوں سے
نہ رہبری نہ کوئی آگہی معاذ اللہ
بلا کی آندھیاں اٹھتی ہیں مومنوں کے لیے
نہ لے اڑے ہمیں طوفاں یہی معاذ اللہ
پیامِ یک جہتی پر ہوۓ ہیں سب خائف
عطش نے مول لی یہ دشمنی معاذ اللہ



