میری بیوی نے مجھے نہیں پہچانا میں نے اُس کا دوپٹ…


💥 میری بیوی نے مجھے نہیں پہچانا 🥹
میں نے اُس کا دوپٹہ ٹھیک کیا تو اُس نے میرا ہاتھ دیکھ کر پوچھا: “آپ میرے بھائی ہیں؟” 💔💔

میری عمر اسی سال ہے۔

میں ہر منگل اپنی بیوی کو ایک پرانی ڈرائی کلین کی دکان پر لے جاتا ہوں۔

وہ ستتر سال کی ہے۔

کبھی اسے یاد نہیں رہتا کہ ہم وہاں کیوں جاتے ہیں۔

کبھی کہتی ہے:

“چائے پینے جا رہے ہیں؟”

کبھی دکاندار کو “بابو جی” کہہ دیتی ہے، حالانکہ اُس کا نام رفیق ہے۔

مگر ایک بات اسے ہمیشہ یاد رہتی ہے۔

وہ ہر منگل وہی نیلا جوڑا پہن کر جاتی ہے۔

اُس جوڑے کے دامن پر ایک داغ ہے۔

چھوٹا سا۔

چائے کا داغ۔

بہت بڑا نہیں۔

مگر صاف نظر آتا ہے۔

کبھی زینب کو داغوں سے نفرت تھی۔

وہ کہتی تھی:

“کپڑے کا داغ عورت کی لاپرواہی کی گواہی دیتا ہے۔”

اور پھر اتنی دیر رگڑتی کہ اُس کی انگلیاں سرخ ہو جاتیں۔

اب وہ داغ نہیں دیکھتی۔

یا شاید دیکھتی ہے، مگر پہچانتی نہیں۔

دو سال پہلے ڈاکٹر نے کہا تھا:

“حاجی صاحب، زینب بیگم کی یادداشت کمزور ہو رہی ہے۔ انہیں نرمی چاہیے۔”

نرمی۔

کتنا آسان لفظ ہے۔

مگر جس آدمی کی بیوی آہستہ آہستہ اُس کے سامنے خود سے دور ہوتی جائے، وہ جانتا ہے کہ نرمی اصل میں کیا ہوتی ہے۔

نرمی یہ ہے کہ جب وہ پانچویں بار پوچھے:

“آج کون سا دن ہے؟”

تو آپ پہلی بار کی طرح جواب دیں:

“منگل ہے، زینب۔”

نرمی یہ ہے کہ جب وہ آپ کو بھائی سمجھ لے، تو آپ اپنا نام زور سے نہ بتائیں۔

نرمی یہ ہے کہ جب وہ اپنی شادی کا دن بھول جائے، تو آپ اُس کے ہاتھ میں وہی پرانی چوڑی پہنا دیں جو اُس نے نکاح کے بعد پہنی تھی۔

ہماری شادی کو پچپن سال ہو چکے ہیں۔

زینب کبھی بہت باتونی عورت تھی۔

محلے کی ہر شادی، ہر جنازہ، ہر بیماری، ہر خوشی اُس کے علم میں ہوتی تھی۔

گھر کے ہر بچے کا ناپ اسے یاد رہتا۔

کسے کون سا سالن پسند ہے۔

کس کی چائے میں چینی کم ہے۔

کون سا کپ مہمانوں کیلئے ہے اور کون سا روزمرہ کیلئے۔

اب وہ کبھی کبھی اپنا ہی کمرہ ڈھونڈتی رہ جاتی ہے۔

مگر عجب بات ہے…

وہ نیلا جوڑا نہیں بھولتی۔

وہ ہر منگل الماری کے سامنے کھڑی ہو کر کہتی ہے:

“وہ والا دینا… جس میں آسمان کا رنگ ہے۔”

اور میں سمجھ جاتا ہوں۔

وہی نیلا جوڑا۔

وہی داغ۔

وہی منگل۔

ہم پہلی بار اس ڈرائی کلین کی دکان پر تب گئے تھے جب زینب نے اپنے بھتیجے کی شادی میں یہی جوڑا پہنا تھا۔

اسی دن چائے کا کپ اُس کے دامن پر چھلک گیا تھا۔

وہ بہت پریشان ہوئی تھی۔

کہتی رہی:

“داغ رہ گیا تو میں یہ جوڑا دوبارہ نہیں پہنوں گی۔”

میں نے مذاق میں کہا تھا:

“رہنے دو، اسی بہانے مجھے یاد رہے گا کہ شادی میں تم میرے ساتھ بیٹھی تھیں۔”

وہ ہنسی تھی۔

وہ ہنسی آج بھی میرے کانوں میں کہیں محفوظ ہے۔

رفیق کی دکان کوئی بڑی جگہ نہیں۔

بازار کے کونے پر پرانی سی دکان ہے۔

دروازے پر نیلا پردہ۔

اندر استری کی بھاپ۔

دیوار پر کیلوں سے لٹکے کپڑے۔

کاؤنٹر کے پیچھے رفیق۔

درمیانی عمر کا آدمی۔

کم بولنے والا۔

مگر دل کا نرم۔

پہلی بار جب زینب نے اسے “بابو جی” کہا تو میں نے معذرت کی۔

“بیٹا، یادداشت کا مسئلہ ہے۔”

رفیق نے مسکرا کر کہا:

“حاجی صاحب، نام میں کیا رکھا ہے؟ وہ مجھے جو چاہیں کہہ لیں۔”

اگلے منگل ہم پھر گئے۔

زینب کاؤنٹر کے پاس کھڑی ہو کر کپڑوں کے ٹیگ دیکھ رہی تھی۔

اُس کی ناک بہہ رہی تھی۔

میں جیب میں رومال ڈھونڈ رہا تھا کہ رفیق نے بہت آہستہ سے ایک ٹشو اُس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔

“بیگم صاحبہ، یہ رکھ لیں۔”

زینب نے اُسے دیکھا۔

پھر مسکرا دی۔

وہ صبح سے پہلی بار مسکرائی تھی۔

اگلے ہفتے میں ٹشو ساتھ لے گیا۔

رفیق نے کاؤنٹر پر ایک چھوٹی سی ٹافی رکھ دی۔

زینب نے اسے اٹھایا۔

بالکل بچی کی طرح خوش ہو گئی۔

پھر ایک دن اُس سے غلطی سے نشاستے کی بوتل گر گئی۔

سفید پاؤڈر فرش پر پھیل گیا۔

میں گھبرا گیا۔

“زینب، دھیان سے!”

وہ سہم گئی۔

مگر رفیق فوراً نیچے بیٹھ گیا۔

جھاڑو اٹھائی۔

اور بولا:

“کوئی بات نہیں بیگم صاحبہ، گندگی بھی مل کر صاف کر لیتے ہیں۔”

زینب ہنس پڑی۔

سچی والی ہنسی۔

وہی پرانی۔

وہی گھر بھر دینے والی۔

میں وہیں کھڑا رہ گیا۔

ڈاکٹر کے کمرے کے بعد میں نے وہ ہنسی دوبارہ نہیں سنی تھی۔

آہستہ آہستہ دکان کے لوگ بھی زینب کو پہچاننے لگے۔

ایک صاحب ہر منگل اپنی پتلونیں دینے آتے تھے۔

وہ ہمیشہ کہتے:

“آج رومال بھول گیا ہوں۔”

اور اپنا صاف رومال زینب کی کرسی پر چھوڑ جاتے۔

ایک خاتون شادی کے کپڑے استری کروانے آتی تھیں۔

وہ زینب کو سونف یا ٹافی پکڑا دیتیں۔

“منہ میٹھا رہے، خالہ۔”

ایک رکشہ ڈرائیور تھا، جس کی قمیضیں ہمیشہ تیل سے بھری ہوتی تھیں۔

وہ بظاہر بہت سخت آدمی تھا۔

مگر ہر دوسرے منگل “گم شدہ سامان” والی ٹوکری میں ایک گلاب رکھ جاتا۔

رفیق مجھے آنکھ سے اشارہ کر کے کہتا:

“حاجی صاحب، یہ نیلے جوڑے والی بیگم کیلئے ہے۔”

اور زینب اسے دیکھ کر کہتی:

“یہ کس نے رکھا؟”

میں کہتا:

“کسی نے آپ کیلئے۔”

وہ پوچھتی:

“میں اسے جانتی ہوں؟”

میں مسکرا کر کہتا:

“نہیں، مگر وہ آپ کو جانتا ہے۔”

نیلے جوڑے کا داغ جوں کا توں رہا۔

ایک دن میں نے رفیق سے کہا:

“بیٹا، یہ داغ نکل سکتا ہے؟”

رفیق نے جوڑے کو غور سے دیکھا۔

پھر میری طرف دیکھ کر سر ہلا دیا۔

“نکل سکتا ہے، حاجی صاحب۔”

“تو نکال دو۔”

وہ چپ رہا۔

پھر بہت آہستہ سے بولا:

“اجازت ہو تو نہ نکالوں؟”

میں حیران ہوا۔

“کیوں؟”

رفیق نے داغ پر انگلی نہیں رکھی، بس اسے دیکھا۔

“یہ داغ بیگم صاحبہ کو یاد نہیں، مگر شاید اُن کا راستہ ہے۔ وہ ہر منگل اسی جوڑے کو پہچان کر یہاں آتی ہیں۔ اگر میں داغ صاف کر دوں، تو شاید جوڑا بھی اُن کیلئے اجنبی ہو جائے۔”

میں نے کچھ نہیں کہا۔

رفیق نے مزید کہا:

“کچھ نشان گندگی نہیں ہوتے، حاجی صاحب۔ کچھ نشان یاد کی آخری کیل ہوتے ہیں۔ انہیں نکال دیں تو چیز صاف ضرور ہو جاتی ہے، مگر خالی بھی ہو جاتی ہے۔”

میں اُس دن دکان سے واپس آتے ہوئے بہت دیر خاموش رہا۔

پچھلے مہینے ایک صبح زینب نے مجھے پہچانا نہیں۔

میں نے اُس کا دوپٹہ ٹھیک کیا تو اُس نے میرا ہاتھ دیکھ کر پوچھا:

“آپ میرے بھائی ہیں؟”

میرا دل جیسے سینے میں چٹخ گیا۔

پچپن سال کی رفاقت کے بعد انسان اچانک بھائی بن جائے تو اسے کیا جواب دینا چاہیے؟

میں نے صرف اتنا کہا:

“نہیں زینب، میں رشید ہوں۔”

وہ خاموش رہی۔

پھر بولی:

“رشید کہاں ہے؟ وہ مجھے لینے آئے گا۔”

میں واش روم میں جا کر رویا۔

اتنا رویا جتنا شاید اُس دن بھی نہیں رویا تھا جب ڈاکٹر نے بیماری کا نام بتایا تھا۔

مگر اسی منگل جب ہم رفیق کی دکان پر پہنچے تو زینب نے کاؤنٹر پر ہاتھ رکھا، اِدھر اُدھر دیکھا، پھر میری طرف مڑ کر بولی:

“رشید، تم پھر دیر سے آئے ہو۔”

میری سانس رک گئی۔

وہ مجھے دیکھ رہی تھی۔

واقعی دیکھ رہی تھی۔

ایک لمحے کیلئے سہی۔

مگر وہ میں تھا۔

اُس کا رشید۔

رفیق نے خاموشی سے ایک ٹافی اُس کی طرف بڑھائی۔

زینب نے ٹافی لی اور رفیق سے کہا:

“میرے شوہر ہمیشہ دیر کر دیتے ہیں۔ مگر آ جاتے ہیں۔”

رفیق نے سر جھکا لیا۔

شاید وہ بھی اپنی آنکھیں چھپا رہا تھا۔

اب ہر منگل جب ہم دکان میں داخل ہوتے ہیں تو دکان جیسے ایک لمحے کیلئے ٹھہر جاتی ہے۔

رومال والے صاحب اپنی جیب ٹٹولتے ہیں۔

“ارے، آج پھر رومال رہ گیا۔”

ٹافی والی خاتون مسکرا کر کہتی ہیں:

“خالہ، آج میٹھی سونف لائی ہوں۔”

رکشہ ڈرائیور باہر کھڑا کھنکھار کر اندر گلاب رکھ جاتا ہے۔

کوئی بلند آواز میں کچھ نہیں کہتا۔

کوئی زینب کی بیماری کا نام نہیں لیتا۔

کوئی ترس نہیں کھاتا۔

بس سب مل کر اُس کی دنیا کو تھوڑا سا سیدھا رکھ دیتے ہیں۔

ایک ٹافی سے۔

ایک رومال سے۔

ایک گلاب سے۔

ایک ایسے نام سے جو غلط ہے مگر محبت سے بھرا ہوا ہے۔

کل ہم دکان گئے تو رفیق نے نیلے جوڑے پر ایک چھوٹا سا کاغذ پن کیا ہوا تھا۔

زینب نے اسے انگلی سے چھوا۔

میں نے پڑھ کر سنایا:

“کچھ داغ دھلتے نہیں…”

“کچھ محبتیں بھولتی نہیں…”

“خوش آمدید، زینب بیگم۔”

وہ کافی دیر کاغذ کو دیکھتی رہی۔

پھر میری طرف مڑی۔

مسکرائی۔

اور بولی:

“رشید، ہم گھر آ گئے؟”

میں نے اُس کا ہاتھ تھام لیا۔

“ہاں زینب۔”

“ہم گھر آ گئے۔”

حالانکہ وہ دکان تھی۔

بازار کا ایک چھوٹا سا کونہ۔

بھاپ، استری، کپڑوں اور ٹافیوں کی خوشبو سے بھری ایک معمولی سی جگہ۔

مگر جس جگہ پر کوئی آپ کے بھول جانے کے باوجود آپ کو یاد رکھے…

وہ جگہ گھر ہی ہوتی ہے۔

آج بھی اُس نیلے جوڑے کا داغ موجود ہے۔

زینب بھی موجود ہے۔

کبھی پوری۔

کبھی ادھوری۔

کبھی مجھے پہچانتی ہوئی۔

کبھی مجھ سے پوچھتی ہوئی کہ رشید کب آئے گا۔

اور میں ہر بار اُس کا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہوں:

“میں آ گیا ہوں، زینب۔”

کیونکہ محبت ہمیشہ یاد رکھنے کا نام نہیں ہوتی۔

کبھی کبھی محبت اُس وقت بھی ساتھ بیٹھے رہنے کا نام ہے…

جب دوسرا آپ کو بھول چکا ہو۔

اور شاید یہی رفاقت ہے۔

کہ جب یادداشت جواب دے جائے، تو محبت یاد رکھنے کا کام سنبھال لے۔ ❤️

#husbandandwifelife #husbandandwifeteam #dementiacare #EmotionalStory