Category: ناول

  • عشق محشر سی ادا رکھتا ہے : آخری قسط

    عشق محشر سی ادا رکھتا ہے : آخری قسط

    سیف کے جسم میں لہو منجمد ہو نے لگا تھا جبکہ صاحبہ کے اندر لہو کی گردش اور تیز ہوگی۔وہ گھبرائے ہوئے انداز میں دیوار سے جا لگا اور صاحبہ پرسکون مسکراہٹ کے ساتھ اُس کے اور قریب آنے لگی۔جازم خان کا قہر برساتا رعونت سے اُٹھایا گیا ایک ایک قدم سیف کو شرمندگی اور…

  • فسادی : کنول نوید

    فسادی : کنول نوید

    بچوں کے بچپن میں بہت سے نام رکھے جاتے ہیں ۔ کوئی گڈو ہو جاتا ہے تو کوئی ببلو، کوئی مانو کہلاتی ہے تو کوئی گڑیا۔ مگر جس نام سے میں آپ کو متعارف کروانے جا رہی ہوں وہ ایسی لڑکی ہے جو باغی تھی۔ کبھی کبھی بغاوت انسان کو اس کی روح کے ساتھ…

  • عشق محشر سی ادا رکھتا ہے : ساتویں قسط

    عشق محشر سی ادا رکھتا ہے : ساتویں قسط

    لکڑی کے بوڑھے پلنگوں کو جوان رکھتی رنگین چادریں ۔۔۔رواجوں کی شان بڑھاتے کڑھے ہوئے گول تکیے ۔۔۔ جھومتے پردوں کے وجود پر گھومتی موتی کی لمبی لڑیاں۔۔۔آئینوں کو باہوں میں لیتی مصنوعی پھولوں کی بیلیں۔۔۔ مہندہی رنگ سے رچی اونچی اونچی پایوں والی مسہریاں ۔۔۔علم اور حکمت کا اعلان کرتی کتابوں سے بھری شیلف…

  • عشق محشر سی ادا رکھتا ہے : چھٹی  قسط

    عشق محشر سی ادا رکھتا ہے : چھٹی  قسط

    شعلے  کچھ  اور  شدت   سے  بھڑکے   تو  حویلی   میں   ایک  شور  سا  اُٹھا۔جیون  کی   درد  ناک  چیخوں  سے  حویلی   کی  دیواریں  بھی  لرز  اُٹھی  تھیں۔سیف،  ذکیہ  بیگم  ،رقیہ  ناز  سمیت   حویلی   کے  سارے  نوکر   اُس  کے  کمرے  کی  طرف   بھاگے   تھے،  بس  ایک  وہی  نہیں  تھا  جس  نے  اُس  کی  موت  کا  حکم  نامہ  جاری …

  • عشق محشر سی ادا رکھتا ہے : پانچویں قسط

    عشق محشر سی ادا رکھتا ہے : پانچویں قسط

    ابھی آنکھیں کھلی ہیں اور کیا کیا دیکھنے کو مجھے پاگل کیا اُس نے تماشا دیکھنے کو جس محبت پر یقین ہو کہ وہ ہر لمحہ پھول برسائے گی ، وہ کانٹے اُگلتی ہے تو آنکھیں کھلتی ہیں۔۔۔ جس محبت پر بھرم ہو کہ وہ سائباں کے جیسے گھنا سایہ عطا کرے گی ، وہ…

  • عشق محشر سی ادا رکھتا ہے : چوتھی قسط

    عشق محشر سی ادا رکھتا ہے : چوتھی قسط

    تین دن بعد حویلی کے نوکر کو حویلی کے باہر پھینک دیا گیا تھا۔اُس کا جسم اتنا کمزور ہو چکا تھا اور زخم اِتنے گہرے کہ وہ چاہ کر بھی اپنے قدموں پر کھڑا نہ ہو سکا۔اُس کے ماتھے اور منہ سے ابھی تک خون رس رہا تھا،مگر درد کہیں تھا تو دل کے اُ…

  • عشق  محشر  سی  ادا  رکھتا  ہے : تیسری قسط

    عشق محشر سی ادا رکھتا ہے : تیسری قسط

    شام ہوتے ہی بادلوں کی زور دار گرج رضا ہاؤس میں گونجنے لگی،مگر گھر کے مکینوں کی زندگی میں طوفان تو کب کا آچکا تھا۔رضا احمد بے چینی سے پورے ہال میں ٹہل رہے تھے ۔دائیں بائیں چکر کاٹتے اُنھیں ایک گھنٹہ بیت چکا تھا۔اُن کا غمزدہ چہرہ اُن کے دل کو لگے سنگین صدمے…

  • عشق   محشر  سی  ادا  رکھتا  ہے : قسط 2

    عشق محشر سی ادا رکھتا ہے : قسط 2

    [su_heading size=”38″]عشق محشر سی ادا رکھتا ہے: حمیرا فضا[/su_heading] [su_dropcap]م[/su_dropcap]حبت ہر دور میں پیدا ہوئی تھی ۔۔۔محبت نے ہر صدی پر حکومت کی تھی۔۔۔محبت نے ہر موسم کا مزہ چکھا تھا۔۔۔محبت نے ہر شخص کو چھوا تھا ۔۔۔ایک وہ وقت آیا جب مکان کچّے تھے جن کے اندر خالص محبتوں کے شگوفے کھلے ۔۔۔پھر چھتیں…

  • عشق محشر سی ادا رکھتا ہے – قسط 1

    عشق محشر سی ادا رکھتا ہے – قسط 1

    [su_highlight background=”#ffff99″] تعارف[/su_highlight] حمیرا فضاادبی دنیا میں ایک نئی اور توانا آواز ہیں۔ ان کا تعلق رحیم یار خان سے ہے۔ لکھنے کا آغاز شاعری سے کیا ۔ان کی نظمیں آنچل ڈائجسٹ،ردا ڈائجسٹ ،نیا افق ڈائجسٹ ،سوہنی ڈائجسٹ اور صبح بہار میگزین میں شائع ہو چکی ہیں۔کچھ شارٹ سٹوریز بھی الف کتاب میگزین ،صبح بہارمیگزین…

  • محبت اب اور نہیں – آخری قسط

    محبت اب اور نہیں – آخری قسط

    (محبت اب اور نہیں، اب بہت جلد کتابی شکل میں شائع ہو کر محبت کی خوشبو میں رچے صفحات کی صورت آپ کے روبرو ہو گا۔ مصنفہ کے آٹوگراف سے مزین جلد کے حصول کے لئے تفکر ویب سائیٹ پہ ابھی رابطہ فارم سے آرڈر بک کیجئے۔ )