شام تک سوشل میڈیا پر خبر چل رہی تھی کہ ایک خاتون ن…


💥شام تک سوشل میڈیا پر خبر چل رہی تھی کہ ایک خاتون نے سرکاری تقریب میں ہنگامہ کیا، انتظامیہ سے بدتمیزی کی، اور سرکاری فرائض میں مداخلت کی💔🥺

کچھ فائلیں بند نہیں ہوتیں۔
وہ صرف الماری بدلتی رہتی ہیں۔
میری فائل بھی شاید اب تک کسی سرکاری الماری میں دھول کے نیچے سانس لے رہی ہوگی۔

میں نائلہ ہوں۔

لوگ مجھے "نائلہ باجی” کہتے تھے۔ میرے گھر کے برآمدے میں لگے چار سلائی مشینوں سے شروع ہونے والا کام چند برسوں میں ایک چھوٹا سا ووکیشنل سینٹر بن گیا تھا۔ بیوہ عورتیں، طلاق یافتہ لڑکیاں، اور وہ بچیاں جن کے باپ روز شام کو یہ کہہ کر لوٹتے تھے کہ "آج بھی مزدوری نہیں ملی”… سب میرے پاس آتی تھیں۔

میں انہیں سلائی سکھاتی تھی۔

اصل میں…

میں انہیں کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا سکھاتی تھی۔

ایک سال ضلعی انتظامیہ نے میرے ادارے کو "خود کفیل خواتین پروگرام” کے لیے منتخب کر لیا۔ کہا گیا، ڈپٹی کمشنر صاحب اپنے ہاتھ سے تعریفی سند دیں گے۔

میری طالبات مجھ سے زیادہ خوش تھیں۔

صبح اماں نے استری کیا ہوا سفید سوٹ نکالا۔ جاتے ہوئے میرے دوپٹے کا کنارا ٹھیک کرتے ہوئے بس اتنا کہا،

"بیٹی… عزت کپڑوں سے نہیں، رویّے سے ہوتی ہے۔”

میں مسکرا دی۔

کاش اماں جانتی ہوتیں، بعض جگہوں پر عزت نہ کپڑوں سے ہوتی ہے، نہ رویّے سے… صرف پہنچان سے ہوتی ہے۔

ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔

پہلی قطار میں دو کرسیاں خالی تھیں۔ دعوتی کارڈ دکھا کر میں ان میں سے ایک پر بیٹھ گئی۔

پانچ منٹ بعد ایک کلرک میرے قریب جھکا۔

"باجی… آپ پیچھے تشریف لے جائیں۔”

"کیوں؟”

"یہ نشستیں خاص مہمانوں کے لیے ہیں۔”

میں نے کارڈ اس کے سامنے کر دیا۔

اس نے کارڈ دیکھا، پھر میری طرف دیکھا، اور دھیرے سے بولا،

"اوپر سے حکم آیا ہے۔”

میں نے کرسی نہیں چھوڑی۔

تھوڑی دیر بعد ایک افسر آیا۔

اس کے لہجے میں شائستگی تھی، مگر آنکھوں میں نہیں۔

"بات سمجھیں… ہمیں مسئلہ نہ بنائیں۔”

میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس ملک میں مسئلہ وہ نہیں بنتا جو ظلم کرتا ہے…

مسئلہ وہ بنتا ہے جو خاموش ہونے سے انکار کر دے۔

تقریب شروع ہونے سے پہلے دو پولیس والے آگئے۔

لوگ موبائل نکال کر دیکھنے لگے۔

مجھے بازو سے پکڑ کر باہر لے جایا گیا۔

شام تک سوشل میڈیا پر خبر چل رہی تھی کہ ایک خاتون نے سرکاری تقریب میں ہنگامہ کیا، انتظامیہ سے بدتمیزی کی، اور سرکاری فرائض میں مداخلت کی۔

میں حیران تھی۔

میں نے تو صرف ایک کرسی نہیں چھوڑی تھی۔

عدالت میں مجھ پر "سرکاری کام میں رکاوٹ” ڈالنے کا مقدمہ چلا۔

جرمانہ ہوا۔

عدالتی اخراجات الگ۔

فیصلے کے بعد پیشکار نے میرے سامنے ایک سرکاری رسید رکھ دی۔

میں دیر تک اسے دیکھتی رہی۔

قانون نے میرے وقار کی پوری قیمت ایک معمولی سی رسید پر لکھ دی تھی۔

میں اپیل کرتی رہی۔

فائل چلتی رہی۔

افسر بدلتے رہے۔

حکومتیں بدلتی رہیں۔

صرف فیصلہ نہیں بدلا۔

پھر ایک دن میں بھی بدل گئی۔

قبر کے پتے میں۔

میرے بعد میری چھوٹی بہن نے وہ رسید اپنی الماری میں نہیں، اپنے ضمیر میں رکھ لی۔

ہر سال ایک نئی درخواست۔

ہر نئے افسر کے سامنے وہی پرانی رسید۔

لوگ کہتے،

"باجی، اب اس سے کیا ملے گا؟”

وہ ہر بار مسکرا کر جواب دیتی،

"میری بہن کا نام۔”

کئی برس بعد حکومت نے اعلان کیا کہ میرے خلاف مقدمہ بے بنیاد تھا۔

معذرت بھی ہوئی۔

میرے نام کی تختی بھی لگ گئی۔

اخباروں میں تصویریں بھی چھپیں۔

صرف ایک چیز وقت واپس نہ لا سکا۔

وہ لمحہ…

جب ایک کرسی سے زیادہ میری عزت کو خالی کرایا گیا تھا۔

آج بھی کبھی کسی سرکاری دفتر میں الماریوں پر جمی دھول دیکھتا ہوں تو دل کہتا ہے…

اس ملک میں انصاف مر نہیں جاتا۔

بس کسی فائل کے اندر اتنی دیر سویا رہتا ہے کہ جس کے لیے جاگتا ہے، وہ اسے دیکھنے کے لیے زندہ نہیں رہتا۔

افسانہ: سرکاری فائل
©️ انتخاب سخن