تھی عدالت میں گواھی ہاتھ تھے قرآن پر جھوٹ …


تھی عدالت میں گواھی ہاتھ تھے قرآن پر
جھوٹ کے کانٹوں سے لیکن سچ کا منہ سینا پڑا
…
بدنام نظر کا یومِ پیدائش
تاریخ ولادت:27اپریل 1941ء
پورا نام:سلطان عالمگیر ‘ولدیت: سلطان منظر حسین ‘ آبائی وطن: مونگیر (بہار)
——
منتخب کلام
——
ایسا ٹوٹا ھوں کہ اب خود سے ھے جڑنا مشکل
ایسا اجڑا ہوں کہ اس گھر کو بنائے نہ بنے
…
تیری محفل نے مجھ کو گھیر لیا
ورنہ دنیا میں ایک تھا میں بھی
…
گرفت اے آسماں اک دن تو ڈھیلی چھوڑ دے مجھ پر
کبھی اپنی بلندی سے زمیں پر تو اترنے دے
…
اندھیروں میں خود اپنے آپ سے ڈر جاؤگے بدنام
نزولِ شام سے پہلے نظر میں روشنی بھر لو
…
نہ جذبوں کو سنوارنے دے نہ سانسوں کو بکھرنے دے
عجب عیار خوشبو ھے نہ جینے دے نہ مرنے دے
…
اتنی چکنی نہ بنا شہر کی دیواروں کو
پوسٹر اُن پہ بہ آسانی چپک سکتے ھیں
..
ابھی جسموں کی دیواروں پہ نعرے لکھ نہ اے بدنام
پس_ منظر کی خاطر ان پہ کچھ روغن تو کرنے دے
….
ذرا وہ اپنے دامن کو بھی دیکھیں
جو شاداں ہیں مجھے آپمان دے کر
..
کون ھوں، کیا ھوں، کس لئے ھوں نظر
کاش یہ راز جانتا میں بھی
..
اس بار بھی ھم نہ مل سکیں گے
رستے میں چناب آ گیا ھے
..
سچائیوں کی کھوج میں رہتا تھا ایک دن
اک شخص میرے جسم کے اندر کہاں گیا
دیر و حرم کا فرق نہ جس نے کبھی کیا
بدنام تیرے جیسا قلندر کہاں گیا
دشمن کے تیر اب تو کلیجے کے پار ھیں
ماں کی دعاؤں کا ذرہ بکتر کہاں گیا
…
دیوانہ ھے صوفی ھے شاعر ھے یا کوئی عاشق ھے
آوارہ پھرتا ھے شب بھر تنہا تنہا کھویا سا
…
پیاس جسموں کو بجھا کرتی ھے یو ں بھی اکثر
ایک تصویر سرہانے میں لگائے رکھئے
آج کی رات نظر زخم مرے چمکیں گے
آج کی رات چراغوں کو بُجھائے رکھئے
اس سيه رات میں اک سبز پری اُترے گی
خواب _ طفلی کو بہر حال جگائے رکھئے
…..
باغ دل میں کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد
بھول کر آئی نہ اس سمت صبا تیرے بعد
تیری زلفوں کی مہک تیرے بدن کی خوشبو
ڈھونڈھتی پھرتی ہے اک پگلی ہوا تیرے بعد
وہی میلے وہی پنگھٹ وہی جھولے وہی گیت
گاؤں میں پر کوئی تجھ سا نہ ملا تیرے بعد
اندھی راتوں کی سیاہی مرا مقدور ہوئی
کوئی تارا مرے آنگن نہ گرا تیرے بعد
دے دیا اپنے دل و جان کا اک اک قطرہ
اور کیا چاہتی ہے تیری صدا تیرے بعد
جسم میرا تھا مگر روح کا مالک تھا اور
کیسی عیاری کا یہ راز کھلا تیرے بعد
حد امکان تلک کرنیں وفا کی بکھریں
جسم میرا کئی زخموں سے سجا تیرے بعد
تو ہی غالب نہیں اک جور فلک کا مارا
میرے گھر آیا ہے طوفان بلا تیرے بعد
کسی خوش فہمی میں رہتا ہے تو بدنام نظرؔ
کون رکھے گا تجھے یاد بھلا تیرے بعد
..
گم شدہ موسم کا آنکھوں میں کوئی سپنا سا تھا
بادلوں کے اڑتے ٹکڑوں میں ترا چہرا سا تھا
پھر کبھی مل جائے شاید زندگی کی بھیڑ میں
جس کی باتیں پیاری تھیں اور نام کچھ اچھا سا تھا
جاں بلب ہونے لگا ہے پیاس کی شدت سے وہ
خشک ریگستان میں اک شخص جو دریا سا تھا
گھر گیا ہے اب تو شعلوں میں مرا سارا وجود
اس کی یادیں تھیں تو سر پر اک خنک سایا سا تھا
اس نے اچھا ہی کیا رشتوں کے دھاگے توڑ کر
میں بھی کچھ اکتا گیا تھا وہ بھی کچھ اوبا سا تھا
شہر کی ایک ایک شے اپنی جگہ پر ہے نظرؔ
کیا ہوا وہ آدمی کچھ کچھ جو دیوانا سا تھا
….
ٹپکتے شعلوں کی برسات میں نہاؤں گا
اب آ گیا ہوں تو اس شہر سے نہ جاؤں گا
کشش ہے گھر میں نہ باہر کی رونقیں باقی
یونہی رہا تو کہاں جا کے مسکراؤں گا
یہ گیلی گیلی سی خوشبو یہ نرم نرم نگاہ
تمہارے پاس رہا میں تو بھیگ جاؤں گا
بسا سکو تو بسا لو مجھے خیالوں میں
کہ اس دیار میں دوبارہ میں نہ آؤں گا
قدم سمیٹ کے چلنا بھی سیکھ جاؤ گے
تمہیں میں گاؤں کی پگڈنڈیاں دکھاؤں گا
چلا تھا ڈھونڈنے میں زندگی کی بنیادیں
پتہ نہ تھا کہ خود اپنا پتہ نہ پاؤں گا
نہ ہوں گا میں تو مری داستان ہوگی نظرؔ
زمیں پہ دھوپ کی صورت میں پھیل جاؤں گا
…..
نکتہ چینی جو فن کا ڈھب ٹھہرے
پھر کہاں ہم سا بے ادب ٹھہرے
زندگی تو نے کیا دیا ھم کو
ھم ترے در پہ بے سبب ٹھہرے
کیسے کہتا میں دل کی بات اُنہیں
وہ مرے آس پاس کب ٹھہرے
کیا کمی ھے سرائے الفت میں
لوگ اب ٹھہرے اور نہ تب ٹھہرے
شدت _ درد اور میں خاموش
نالے سب دل کے زیر_ لب ٹھہرے
تم سے ملنے کی آخری شب ھے
اور کچھ دیر کو یہ شب ٹھہرے
کیا کشش قبر گاہ میں ھے نظر
بچے بوڑھے جوان سب ٹھہرے
…
کہیں پیار کا کوئی رشتہِ تو ھوگا
کسی کو کبھی تم نے چاہا تو ھوگا
ھو اؤں میں اڑنا بھی آساں نہیں اب
پرندہ کہیں تھک کے بیٹھا تو ھوگا
بہت ہی خفا ھے پر اس نے کسی سے
جھجھک کر مرا حال پوچھا تو ھوگا
مساجد، منادر ، تڑپتی یہ لاشیں
خدا نے یہ منظر بھی دیکھا تو ھوگا
….

…………………