اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب نظمیں

مقدر کبھی کبھی آپ کو ایسی قطار میں لا کھڑا کرتا ہے…


مقدر کبھی کبھی آپ کو ایسی قطار میں لا کھڑا کرتا ہے جہاں ایک طرف خوشیوں کا تماشہ ہوتا ہے اور دوسری طرف ایک باپ کی انا کا مقتل۔
میں ابھی لڑکپن کی دہلیز پر تھا جب میں اور ابا سرکس کے ٹکٹ گھر کے سامنے کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ ہمارے ٹھیک آگے ایک خاندان کھڑا تھا جس نے میرا دھیان اپنی طرف کھینچ لیا۔ آٹھ بچے، جن میں سے کوئی بھی بارہ برس سے اوپر کا نہ ہو گا، ایک قطار میں ایسے کھڑے تھے جیسے کسی ڈسپلن کی تصویر ہوں۔ ان کے کپڑے سستے تھے مگر اتنے صاف کہ ان سے خوشبو آتی تھی۔ ان کی آنکھوں میں وہ بے تاب چمک تھی جو صرف ان بچوں کے حصّے میں آتی ہے جن کے لیے زندگی میں خوشیاں بہت مہنگی اور نایاب ہوں۔ ان کے لیے یہ محض ایک سرکس نہیں تھا، یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا دن تھا۔
جب ان کی باری آئی، تو اس باپ نے بڑے فخر سے اپنا سر اٹھایا اور ٹکٹ والی خاتون سے کہا: "مجھے بچوں کے آٹھ اور بڑوں کے دو ٹکٹ دے دیجیے۔”
خاتون نے قیمت بتائی۔
وہ ایک لمحہ کسی بھاری چٹان کی طرح اس باپ پر گرا۔ اس کا چہرہ ایک دم سفید پڑ گیا اور وہ جو اب تک اپنے بچوں کی نظر میں کائنات کا سب سے طاقتور انسان بنا کھڑا تھا، اچانک اپنے ہی وجود میں سمٹنے لگا۔ اس نے تھوڑا قریب ہو کر لرزتی آواز میں دوبارہ پوچھا: "آپ نے کتنے پیسے کہے؟”
جب قیمت دوبارہ دہرائی گئی، تو وہ شخص خاموش ہو گیا۔ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے۔ اس کے پیچھے آٹھ جوڑی آنکھیں کھڑی تھیں جو خواب دیکھ رہی تھیں۔ وہ کیسے مڑتا؟ وہ ان معصوموں کو کیسے بتاتا کہ ان کا باپ ان کی خوشی کی قیمت ادا کرنے میں ناکام ہو گیا ہے؟ وہ اذیت جو اس کے چہرے پر لکھی تھی، اسے پڑھنے کے لیے کسی زبان کی ضرورت نہیں تھی۔
میرے ابا یہ سب دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے کوئی ہمدردی نہیں جتائی، کوئی لمبی بات نہیں کی۔ بس خاموشی سے اپنی جیب سے بیس ڈالر کا ایک نوٹ نکالا اور اسے زمین پر گرا دیا۔ پھر وہ جھکے، نوٹ اٹھایا اور اس شخص کے کندھے پر تھپکی دے کر بڑے دھیمے لہجے میں بولے: "معاف کیجیے گا جناب، یہ نوٹ آپ کی جیب سے گرا ہے۔”
وہ شخص مڑا۔ اس نے ابا کی آنکھوں میں جھانکا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی جیب میں کیا تھا اور کیا نہیں، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ سامنے کھڑا شخص اسے خیرات نہیں دے رہا، بلکہ اس کے بکھرتے ہوئے مان کو سہارا دے رہا ہے۔ اس نے ابا کے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا، اسے اتنی زور سے بھینچا کہ اس کے ہاتھ کانپنے لگے، اور لرزتے ہوئے لبوں سے کہا: "آپ کا شکریہ۔۔۔ آپ کا بہت شکریہ۔ آپ نہیں جانتے یہ میرے اور میرے خاندان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔”
وہ اپنے بچوں کو لے کر اندر داخل ہو گیا، اور ہم اپنی گاڑی کی طرف مڑ گئے۔
اس رات ہم نے سرکس نہیں دیکھا۔ ہم خالی جیب گھر لوٹے، کیونکہ ابا کے پاس اب ٹکٹ کے پیسے نہیں بچے تھے۔ مگر اس خاموش واپسی میں جو سکون تھا، وہ سرکس کے کسی بھی تماشے سے کہیں زیادہ بڑا تھا۔ ہم اس رات سرکس تو نہ جا سکے، مگر ہم "خالی ہاتھ” گھر نہیں لوٹے تھے۔