پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ افسانے

اشفاق احمد کو بات کرنے کا چسکا تھا ۔ اس نے خاکروب سے بات چھیڑی، کہنے لگا، اے میا…


اشفاق احمد کو بات کرنے کا چسکا تھا ۔ اس نے خاکروب سے بات چھیڑی، کہنے لگا، اے میاں، تم چوڑے ہو کیا؟ چوڑے لگتے تو نہیں ہوـ

وہ رک گیا، بولا باؤ جی ـ میں عیسائی ہوں ـ چوڑا نہیں ہوں ـ
عیسائی تو ہو ٹھیک ہے، اشفاق نے کہا، پر کیا یہ کام تمہارا جدی کام ہےـ
جی نہیں، وہ بولا، یہ کام ہمارا جدی کام نہیں ہےـ اور نہ یہ کام میرا کام ہےـ
تو پھر کیوں کر رہے ہو تم یہ کام ـ
بس جی مجبوری ہے ـ
کیسی مجبوری ـ
بس جی میں دفتر میں چپڑ اسی تھا، پھر حکم ہو گیا کہ فضل مسیح جھاڑو کا کام کروـ
کس نے حکم دیا؟ اشفاق بولے
جی میرے مرشد نے حکم دیاـ مجھ سے ایک غلطی ہو گئ تھی ـ مرشد نے سزا دے دی ـ بولا فضل مسیح تین سال گندگی اٹھاؤ، پھر تین سال جھاڑو لگاؤـ چھ سال کے بعد آ کر ہم سے بات کرناـ

فضل مسیح کی بات سن کر شہاب(قدرت اللہ شہاب) کے کان کھڑے ہو گۓـ بولا فضل مسیح عیسائیوں کے بھی مرشد ہوتے ہیں کیا؟
صاحب جی، وہ بولا، یہ تو بندے بندے کی بات ہے، کوئی مرشد مان لیتا ہے، کوئی نہیں مانتاـ کوئی زبردستی نہیں صاحب جی ـایسے بھی ہیں جو مرشد مان کر بھی حکم نہیں مانتےـ آپ مسلمانوں میں بھی تو یہی ہوتا ہے جی ـ

ان کے لیۓ چاۓ کا ایک پیالہ منگوائیے، شہاب نے کہاـ
فضل نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ماتھے پر رکھ لیۓـ بولا، نہیں سرکار چاۓ کی تکلیف نہ کریں ـ چاۓ میں نہیں پیتاـ
کیوں نہیں پیتے، اشفاق نے پوچھاـ
حکم نہیں ہے، بابو جی، وہ بولا ـ
چاۓ منع ہے کیاـ اشفاق نے بوچھا
منع تو نہیں ـ دوجے سے لے کر پینے کا حکم نہیں ہےـ
لیکن کیوں ؟

حکم تو حکم ہوتا ہے جی ـ اس میں نہ نہیں ہوتاـ کس لیۓ نہیں ہوتاـ پچھنا نہیں ہوتا جی ـ پچھنا حجت ہےـ حکم ہے کہ فضل مسیح کسی کا دیا ہوا نہیں کھانا پیناـ کسی کا دیا ہوا نہیں پہنناـ ادھار نہیں مانگنا چاہے فاقے آئیں، پڑے آئے فاقےـ
بڑے سخت حکم ہیں، اشفاق نے کہا ـ
بابو جی، وہ بولا، جو سخت نہ ہو تو پھر وہ حکم ہی کیا ہواـ
تم نہ مانو ممتاز مفتی نے کہا۔۔۔۔
فضل مسیح ھنسا اور کہنے لگا صاحب جی ۔ مرشد مان کر جو حکم نہ مانے وہ مرد نہیں۔۔۔

ہم مسلمانوں میں تو بہت سارے ایسے ہیں فضل مسیح جو مرشد تو بنا لیتے ہیں پر حکم نہیں مانتے، میں نے بات کی وضاحت کی ـ
بس جی اس لیۓ مسلمان رل رہے ہیں ـ کوئی قدر نہیں، کوئی مان نہیں، وکھو وکھ ہو رہے ہیں، انگلاں ہی انگلاں مٹھ نہ بنےـ

سچ کہہ رہا ہے فضل مسیح، شہاب گنگنایاـ
صاحب جی صرف مسلمان کی گل نہیں ـ مسلمان ہو، عیسائی ہو، سکھ ہو، ہندو ہو کوئی بھی ہوـ اس سے فرق نہیں پڑتاـ بس شرط اک ہی ہے حکم منےـ اگوں بولنا نہیں ـ پچھنا نہیں ـ بس سر جھکا دینا ہے جس قوم نے حکم منیا وہ چڑھ گئ، نہ منیا تورل گئی ـ
شاباشے، اشفاق بولا، تو کھری باتاں کر رہا ہے فضل، پر یہ بتا کہ تیری سزا کے کتنے سال باقی ہیں ـ
فضل نے ماتھے پر زور سے ہاتھ مارا بولاـ وہ تو پورے ہو گۓ تھےـ صاحب جی ـ پر آخری سال میں پھر اک بھل ہو گئی ـ بندہ بشر ہے ناں صاحب جی، وہ بولاـ بھل ہو ہی جاندی ہے- سزا میں تین سال اور بڑھ گۓ جی ـ

تم مسلمان کیوں نہیں ہو جاتے، اشفاق نے اسے چھیڑاـ
کیا فرق پڑے گا جی، وہ بولا، میں تو یہی رہوں گا جی ـ جو میں ہوں، میری بھل بھی یونہی رہے گی ـ یہاں بھل ہو جاۓ تو بندہ پراسچیت کر لیتا ہےـ مسلمانوں میں بھل ہو جاۓ تو ناواں کاٹ دیتے ہیں ـ اک چانس بھی نہیں دیتے ـ اور پھر مسلمان پیراں نے بڑی اوچی شرطاں لگا رکھیاں نیں ـ کوئی سالوں سال کھوہ میں لٹک کر نام جپتا ہے، کوئی سالوں سال پیٹ پر پتھر بنھے پھرتا ہےـ کوئی اپنے پتر توں خود نوں قربان کرنے کو اٹھ کھڑا ہوتا ہےـ توبہ جی توبہ، یہ تو جنوں کے کام ہیں ـ ان کے لیۓ سمندر جیسا حوصلہ چاہیۓ ـ صاحب جی ـ
فضل مسیح اٹھ بیٹھاـ اچھا صاحب جی، وہ بولاـ میں اپنا کام نپٹا لوں ـ

ہم دونوں فضل مسیح کو جاتے ہوۓ دیکھتے رہےـ یہ فضل مسیح کتنا بڑا آدمی ہےـ میں نے سوچا جو جانے بغیر ماننے کی ہمت رکھتا ہےـ زندگی بھر میں نے ماننے کی عظمت کو نہیں سمجھا تھاـ میں سمجھتا تھا جانے بغیر ماننا ممکن ہی نہیں، جو لوگ آنکھیں بند کر کے مان لیتے ہیں وہ جاہل ہیں ـ

نوٹ۔۔یہی فضل مسیح والا کردار اشفاق احمد صاحب نے تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اپنا مشہور ڈرامہ من چلےکا سودا میں فردوس جمال سے ادا کروایا تھا جو کہ انہوں نے نہایت خوبصورتی سے ادا کیا تھا۔۔۔

اقتباس۔۔۔۔۔۔۔۔ الکھ نگری از ممتاز مفتی



Source