عکسِ خیال
آئیں آپ کو زھرہ نگاہ کی آواز میں ناصر کاظمی کی ایک…

آئیں آپ کو زھرہ نگاہ کی آواز میں ناصر کاظمی کی ایک لازوال غزل سناؤں۔
دیارِ دِل کی رات میں ، چراغ سا جلا گیا
ملا نہیں تو کیا ھُوا ، وہ شکل تو دکھا گیا
وہ دوستی تو خیر اب ، نصیبِ دُشمناں ھُوئی
وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا ، لطف بھی چلا گیا
جدائیوں کے زخم ، دردِ زندگی نے بھر دیے
تجھے بھی نیند آ گئی ، مجھے بھی صبر آ گیا
پکارتی ھیں فرصتیں ، کہاں گئیں وہ صحبتیں ؟؟
زمیں نگل گئی اُنہیں ، کہ آسمان کھا گیا ؟؟
یہ صُبح کی سفیدیاں ، یہ دوپہر کی زردیاں
اب آئنے میں دیکھتا ھُوں ، میں کہاں چلا گیا ؟؟
یہ کس خوشی کی ریت پر ، غموں کو نیند آ گئی ؟؟
وہ لہر کس طرف گئی ، یہ میں کہاں سما گیا ؟؟
جو اور کچھ نہیں تو ، تازہ درد ھی ملے
میں ایک ھی طرح کی زندگی سے ، تنگ آ گیا
گئے دنوں کی لاش پر ، پڑے رھو گے کب تلک
الم کشو اُٹھو ، کہ آفتاب سر پہ آ گیا
”ناصر کاظمی“
بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

