منتخب غزلیں

ہر چہرے میں آتی ہے نظر یار کی صُورت​ احباب کی صُور…

ہر چہرے میں آتی ہے نظر یار کی صُورت​
احباب کی صُورت ہو کہ اغیار کی صُورت​

سینے میں اگر سوز سلامت ہو تو خود ہی​
اشعار میں ڈھل جاتی ہے افکار کی صُورت​

جس آنکھ نے دیکھا تُجھے اُس آنکھ کو دیکُھوں​
ہے اِس کے سِوا کیا تِرے دیدار کی صُورت​

پہچان لِیا تُجھ کو تِری شیشہ گری سے​
آتی ہے نظر فن ہی سے فنکار کی صُورت​

اشکوں نے بیاں کر ہی دیا رازِ تمنّا
ہم سوچ رہے تھے ابھی اِظہار کی صُورت​

اِس خاک میں پوشیدہ ہیں ہر رنگ کے خاکے​
مٹی سے نِکلتے ہیں جو گُلزار کی صُورت​

دِل ہاتھ پہ رکھا ہے کوئی ہے جو خریدے
دیکُھوں تو ذرا مَیں بھی خریدار کی صُورت​

صُورت مِری آنکھوں میں سمائے گی نہ کوئی​
نظروں میں بسی رہتی ہے سرکار کی صُورت​

واصف کو سرِ دار پُکارا ہے کِسی نے​
اِنکار کی صُورت ہے نہ اِقرار کی صُورت​۔۔۔!

کلام حضرت واصف علی واصفؔ
آواز اُستاد نصرت فتح علیخاں

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/