“میرے نکاح کے دن… چار سو مہمانوں کے سامنے… میرے ہ…
مجھے وہ ہنسی پہلے سنائی دی… درد بعد میں محسوس ہوا۔
حمزہ ملک—وہ لڑکا جس کے ساتھ چند لمحوں بعد میرا نکاح ہونا تھا—
وہ کھڑا مسکرا رہا تھا…
جب اس کی ماں میری ماں کی عزت کو سب کے سامنے روند رہی تھی۔
“یہ ماں نہیں ہے…” اس کی خالہ نے اونچی آواز میں کہا،
“یہ تو وہ عورت ہے جو لوگوں کے گھروں میں کام کرتی رہی… اسے یہاں کس نے بٹھا دیا؟”
ہال میں سناٹا چھا گیا۔
میری ماں… شگفتہ بی بی… دروازے کے قریب کھڑی تھیں۔
سادہ کپڑے… ہاتھ میں ایک پرانا سا پرس…
نہ زیور… نہ دکھاوا…
صرف خاموش وقار۔
میں نے حمزہ کی طرف دیکھا۔
میں نے انتظار کیا۔
صرف ایک لفظ…
ایک جملہ…
سب کچھ بچا سکتا تھا۔
وہ کہہ سکتا تھا،
“یہ میری ہونے والی ساس ہیں…”
وہ کہہ سکتا تھا،
“حد میں رہیں…”
لیکن اس نے ہنس کر اپنے دوست کی طرف دیکھا…
اور سر جھکا لیا۔
وہ چھوٹی سی ہنسی…
میرے دل پر ہتھوڑے کی طرح لگی۔
میرے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔
“میری ماں یہاں بیٹھیں گی…” میں نے صاف کہا۔
حمزہ کی ماں نے طنز سے کہا،
“یہ جگہ خاندان والوں کے لیے ہے… ہر کسی کے لیے نہیں…”
کچھ لوگ چونکے…
کچھ نے نظریں چرا لیں…
کوئی آگے نہ آیا۔
نکاح پڑھانے والے صاحب خاموش ہو گئے۔
فضا میں عجیب سا بوجھ آ گیا۔
اور میری ماں…
وہ اب بھی نہیں روئیں۔
یہی سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔
ان کی آنکھیں صرف مجھے دیکھ رہی تھیں…
جیسے کہہ رہی ہوں،
“بیٹا… برداشت کر لو…”
لیکن آج… میں برداشت نہیں کر سکتی تھی۔
میں نے دوپٹہ سنبھالا…
اور مائیک کی طرف بڑھی۔
“یہ نکاح نہیں ہوگا…”
چار سو لوگ ساکت رہ گئے۔
حمزہ نے فوراً میرا ہاتھ پکڑا،
“پاگل ہو گئی ہو؟ تمہیں اندازہ ہے تم کیا کر رہی ہو؟”
میں نے اس کی گرفت دیکھی…
پھر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
“ہاں…” میں نے آہستہ کہا،
“میں آج پہلی بار صحیح فیصلہ کر رہی ہوں…”
اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
اسی لمحے… میری ماں آہستہ آہستہ میری طرف آئیں۔
ہر قدم… باوقار۔
ہر نظر… ان پر جمی ہوئی۔
انہوں نے میرے گال کو چھوا…
وہی ہاتھ… جنہوں نے مجھے اکیلے پالا تھا۔
پھر وہ میرے قریب جھکیں…
اور آہستہ سے کہا—
“بیٹا… میں کمزور نہیں ہوں…”
میں نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
انہوں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“میں نے بس کبھی دکھایا نہیں…”
پیچھے سے حمزہ کے والد کی آواز آئی،
“ڈرامہ ختم کریں… نکاح شروع کریں…”
میری ماں نے پہلی بار سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔
اور پھر… اپنے پرس سے ایک پرانا سا موبائل نکالا۔
سادہ… بٹن والا۔
انہوں نے نمبر ملایا…
اور بس ایک جملہ کہا—
“فوری طور پر تمام ادائیگیاں روک دیں…”
پہلے ویڈنگ منیجر کا چہرہ بدلا۔
پھر کیٹرر کا۔
پھر ہال کے مالک کا۔
چند لمحوں میں… ماحول بدل گیا۔
کچھ لوگ تیزی سے فون کرنے لگے۔
کسی نے اسٹیج کے پیچھے جا کر بات کی۔
لائٹس مدھم ہو گئیں۔
حمزہ کے والد نے غصے سے کہا،
“یہ کیا ہو رہا ہے؟”
ہال کے مینیجر نے آ کر آہستہ کہا،
“سر… اس ایونٹ کی بکنگ… اور ادائیگی… شگفتہ بی بی کے گروپ کی طرف سے ہے…”
ایک لمحے کے لیے…
وقت رک گیا۔
“کیا؟” حمزہ کی ماں کی آواز کانپ گئی۔
مینیجر نے سر جھکا کر کہا،
“جی… اور حکم آیا ہے کہ ادائیگیاں روک دی جائیں…”
حمزہ نے میری طرف دیکھا…
پہلی بار اس کی آنکھوں میں شرمندگی تھی۔
لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔
میری ماں نے سکون سے کہا،
“ہم نے کبھی اپنی حیثیت کا شور نہیں مچایا… کیونکہ ہمیں انسانیت عزیز تھی…”
پھر ان کی آواز تھوڑی سخت ہوئی،
“لیکن آج آپ نے عزت کو کمزوری سمجھ لیا…”
پورا ہال خاموش تھا۔
میں نے پہلی بار اپنی ماں کو اس طرح دیکھا…
مضبوط… باوقار… بے خوف۔
انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا۔
“چلو بیٹا…”
ہم مڑ گئے۔
پیچھے سے آوازیں آ رہی تھیں…
وضاحتیں… معافیاں… گھبراہٹ…
لیکن میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
کیونکہ اس دن…
میں نے صرف ایک نکاح نہیں روکا تھا…
میں نے اپنی ماں کی عزت بچائی تھی…
اور خود کو بھی۔ ❤️
©️ ~Intikhaab-E-Sukhan~
