منتخب غزلیں
10؍مئی 1935 پروفیسر عنایت علی خان کا یوم ولادت …

10؍مئی 1935
پروفیسر عنایت علی خان کا یوم ولادت
نام عنایت علی خاں اور تخلص عنایت تھا۔ 10؍مئی 1935ء کو بھارتی ریاست راجستھان کے شہر ٹونک میں پیدا ہوئے۔ آزادی کے بعد نومبر 1948ء میں والدین کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان گئے اور سندھ کے شہر حیدرآباد میں آباد ہوئے۔ اردو کی درسی کتب برائے مدارس صوبہ سندھ مقابلہ کی بنیاد پر لکھیں اور چھ کتابوں پر انعام ملا۔ پروفیسر عنایت علی خان درسِ قرآن بھی دیا کرتے تھے۔ بنیادی طور پر وہ طنزومزاح کے شاعر تھے۔
پروفیسر عنایت علی خان کا انتقال 26؍جولائی 2020ء کو شب میں دل کا دورہ پڑنے سے کراچی میں ہوا، مرحوم کی عمر 85 برس تھی اور کئی ماہ سے علیل تھے۔
منتخب کلام
ہم ان کو لائے راہ پر مذاق ہی مذاق میں
بنے پھر ان کے ہم سفر مذاق ہی مذاق میں
پڑے رہے پھر ان کے گھر مذاق ہی مذاق میں
مزے سے ہو گئی بسر مذاق ہی مذاق میں
ہوا ہے جدے میں جو اک مزاحیہ مشاعرہ
ہم آ گئے خدا کے گھر مذاق ہی مذاق میں
لطیفہ گوئی کا جو رات چل پڑا تھا سلسلہ
ابل پڑے کئی گٹر مذاق ہی مذاق میں
اٹھو کہ اب نماز فجر کے لیے وضو کریں
کہ رات تو گئی گزر مذاق ہی مذاق میں
یہاں عنایتؔ آپ کو مشاعروں کی داد نے
چڑھا دیا ہے بانس پر مذاق ہی مذاق میں
…..
ورغلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
شامیانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
لان میں تین گدھے اور یہ نوٹس دیکھا
گھاس کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
ایک رقاص نے گا گا کے یہ خبر سنائی
ناچ گانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اس سے اندیشۂ فردا کی جوئیں جھڑتی ہیں
سر کھجانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
بے اجازت جو مچاؤ تو بصد شوق مچاؤ
غل مچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اٹھتے اٹھتے وہ مجھے روز جتا دیتے ہیں
روز آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
پھر تو تم سر پہ اٹھا لو گے زمانے بھر کو
سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
آپ کا گھر ہے، رہیں شوق سے اس میں، لیکن
بیچ کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اپنی کُشتی ہو میاں لاکھ فری اسٹائل
کاٹ کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
یہ شریعت کا نہیں گیس کا بل ہے بیگم
بلبلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اس کے رخسار پہ ہے اور ترے ہونٹ پہ تل
تلملانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
بس تمہیں اتنی اجازت ہے کہ شادی کر لو
شاخسانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اس سے تجدید تمنا کی ہوا آتی ہے
دم ہلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
مکتبِ فکر ہے اسکول نہیں ہے صاحب
قومیانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اس سے مورال مسلمان کا گر جاتا ہے
دال کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
ان کے ارشادِ گرامی کو عنایتؔ سن کر
مسکرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
…..
کشش ہے کس بلا کی دیکھنا ، اس ملک میں یارو
جسے دیکھو ، وہ کہتا ہے میں امریکہ جاتا ہوں
اُدھر اک دلبرانہ شان سے امریکہ کہتا ہے
کہ صاحب آپ کیوں زحمت کریں ، میں خود ہی آتا ہوں
———
سخاوت میں بھلا امریکیوں کا کون ثانی ہے
جو بوٹی مانگئیے تو مرغ سالم بھیج دیتے ہیں
پھر اپنے ملک پر تو ان کی اس درجہ عنایت ہے
کہ صاحب ایڈ کے پیکج میں حاکم بھیج دیتے ہیں
——–
تشویش و اضطراب میں کہتا تھا اک کسان
امریکی سنڈیاں مرے کھیتوں میں آ گئیں
میں نے کہا میاں تجھے فکر کھیتوں کی ہے
امریکی سنڈیاں تو تیرا ملک کھا گئیں
——–
کبھی دیکھتے تھے جو تفسیر قرآن
وہ اب دورِ نو کی پھبن دیکھتے ہیں
لگائی ہے لو جب سے امریکیوں سے
سنن کی جگہ سی این این دیکھتے ہیں
———
ہم نہ ہوں گے بس ہمارا تذکرہ رہ جائے گا
متن مٹ جائے گا باقی حاشیہ رہ جائے گا
میں نے سوچا تھا کے لوٹا دوں اب اس کی یاد بھی
پھر خیال آیا کہ میرے پاس کیا رہ جائے گا
———
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
……………………………
پروفیسر عنایت علی خان کا یوم ولادت
نام عنایت علی خاں اور تخلص عنایت تھا۔ 10؍مئی 1935ء کو بھارتی ریاست راجستھان کے شہر ٹونک میں پیدا ہوئے۔ آزادی کے بعد نومبر 1948ء میں والدین کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان گئے اور سندھ کے شہر حیدرآباد میں آباد ہوئے۔ اردو کی درسی کتب برائے مدارس صوبہ سندھ مقابلہ کی بنیاد پر لکھیں اور چھ کتابوں پر انعام ملا۔ پروفیسر عنایت علی خان درسِ قرآن بھی دیا کرتے تھے۔ بنیادی طور پر وہ طنزومزاح کے شاعر تھے۔
پروفیسر عنایت علی خان کا انتقال 26؍جولائی 2020ء کو شب میں دل کا دورہ پڑنے سے کراچی میں ہوا، مرحوم کی عمر 85 برس تھی اور کئی ماہ سے علیل تھے۔
منتخب کلام
ہم ان کو لائے راہ پر مذاق ہی مذاق میں
بنے پھر ان کے ہم سفر مذاق ہی مذاق میں
پڑے رہے پھر ان کے گھر مذاق ہی مذاق میں
مزے سے ہو گئی بسر مذاق ہی مذاق میں
ہوا ہے جدے میں جو اک مزاحیہ مشاعرہ
ہم آ گئے خدا کے گھر مذاق ہی مذاق میں
لطیفہ گوئی کا جو رات چل پڑا تھا سلسلہ
ابل پڑے کئی گٹر مذاق ہی مذاق میں
اٹھو کہ اب نماز فجر کے لیے وضو کریں
کہ رات تو گئی گزر مذاق ہی مذاق میں
یہاں عنایتؔ آپ کو مشاعروں کی داد نے
چڑھا دیا ہے بانس پر مذاق ہی مذاق میں
…..
ورغلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
شامیانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
لان میں تین گدھے اور یہ نوٹس دیکھا
گھاس کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
ایک رقاص نے گا گا کے یہ خبر سنائی
ناچ گانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اس سے اندیشۂ فردا کی جوئیں جھڑتی ہیں
سر کھجانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
بے اجازت جو مچاؤ تو بصد شوق مچاؤ
غل مچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اٹھتے اٹھتے وہ مجھے روز جتا دیتے ہیں
روز آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
پھر تو تم سر پہ اٹھا لو گے زمانے بھر کو
سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
آپ کا گھر ہے، رہیں شوق سے اس میں، لیکن
بیچ کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اپنی کُشتی ہو میاں لاکھ فری اسٹائل
کاٹ کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
یہ شریعت کا نہیں گیس کا بل ہے بیگم
بلبلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اس کے رخسار پہ ہے اور ترے ہونٹ پہ تل
تلملانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
بس تمہیں اتنی اجازت ہے کہ شادی کر لو
شاخسانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اس سے تجدید تمنا کی ہوا آتی ہے
دم ہلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
مکتبِ فکر ہے اسکول نہیں ہے صاحب
قومیانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اس سے مورال مسلمان کا گر جاتا ہے
دال کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
ان کے ارشادِ گرامی کو عنایتؔ سن کر
مسکرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
…..
کشش ہے کس بلا کی دیکھنا ، اس ملک میں یارو
جسے دیکھو ، وہ کہتا ہے میں امریکہ جاتا ہوں
اُدھر اک دلبرانہ شان سے امریکہ کہتا ہے
کہ صاحب آپ کیوں زحمت کریں ، میں خود ہی آتا ہوں
———
سخاوت میں بھلا امریکیوں کا کون ثانی ہے
جو بوٹی مانگئیے تو مرغ سالم بھیج دیتے ہیں
پھر اپنے ملک پر تو ان کی اس درجہ عنایت ہے
کہ صاحب ایڈ کے پیکج میں حاکم بھیج دیتے ہیں
——–
تشویش و اضطراب میں کہتا تھا اک کسان
امریکی سنڈیاں مرے کھیتوں میں آ گئیں
میں نے کہا میاں تجھے فکر کھیتوں کی ہے
امریکی سنڈیاں تو تیرا ملک کھا گئیں
——–
کبھی دیکھتے تھے جو تفسیر قرآن
وہ اب دورِ نو کی پھبن دیکھتے ہیں
لگائی ہے لو جب سے امریکیوں سے
سنن کی جگہ سی این این دیکھتے ہیں
———
ہم نہ ہوں گے بس ہمارا تذکرہ رہ جائے گا
متن مٹ جائے گا باقی حاشیہ رہ جائے گا
میں نے سوچا تھا کے لوٹا دوں اب اس کی یاد بھی
پھر خیال آیا کہ میرے پاس کیا رہ جائے گا
———
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
……………………………


