منتخب غزلیں

ستم اکثر بہ عنوانِ کرم ایجاد ہوتا ہے چمن میں باغب…

ستم اکثر بہ عنوانِ کرم ایجاد ہوتا ہے
چمن میں باغباں کے بھیس میں صیّاد ہوتا ہے

کبھی ہارا ہے جوشِ گُل بھی دست جورِ گُلچیں سے؟
نشیمن جلتے جاتے ہیں، چمن آباد ہوتا ہے

نہ ہو جب تک سکت بازو میں، یکساں قید و آزادی
قفس کے ٹوٹنے سے بھی کوئی آزاد ہوتا ہے؟

سمجھ کر جس کو اک غم کی امانت، رکھ لیا دل میں
وہی خاموش نالہ حاصلِ فریاد ہوتا ہے

فقط تیشہ اٹھا لینے سے منصب مل نہیں جاتا
جو جُوئے شِیر لاتا ہے، وہی فرہاد ہوتا ہے

جہاں چاہے، بہا لے جائے سَیلِ زندگی اُس کو
مگر بچھڑی ہوئی کشتی کو ساحل یاد ہوتا ہے

الجھ کچھ اور جاتے ہیں یہ پھندے ٹوٹ جانے سے
محبّت کرنے والا بھی کہیں آزاد ہوتا ہے؟

خوشی کیا ہے؟ فسانہ روزِ رفتہ کا بُھلا سکنا
وہی غمگیں ہے جس کو یہ فسانہ یاد ہوتا ہے

چمن کو برق و باراں سے خطر اِتنا نہیں مُلّاؔ
قیامت ہے وہ شعلہ جو نشیمن زاد ہوتا ہے

(آنند نرائن مُلّاؔ)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/