منتخب غزلیں
راحتیں جتنی بھی ہیں سب مشکلوں کے دم سے ہیں ز…

راحتیں جتنی بھی ہیں سب مشکلوں کے دم سے ہیں
زندگی میں جو بھی سکھ ہیں خواہشوں کے دم سے ہیں
شہر کا تبدیل ہونا ، شاد رہنا ، اور اداس
رونقیں جتنی یہاں ہیں ، عورتوں کے دم سے ہیں
منزلیں آساں بہت… تنہا سفر کرنے سے ہیں
رنج ہیں جتنے سفر میں ہم دموں کے دم سے ہیں
ایک بستی کی حفاظت خوف میں رہنے سے ہے
اور اس کے جشن دل کی وحشتوں کے دم سے ہیں
باغ ، جنگل ، خوشنما بیلیں مکانوں پر ”مُنیرؔ“
اس زمیں پر رنگ سارے پانیوں کے دم سے ہیں
*****
*****
شاعر : ”مُنیرؔ نیــازی“
![]()
![]()


