منتخب نظمیں

تھم گیا درد، اجالا ہوا تنہائی میں برق چمکی ہے کہی…

تھم گیا درد، اجالا ہوا تنہائی میں
برق چمکی ہے کہیں رات کی گہرائی میں

باغ کا باغ لہو رنگ ہُوا جاتا ہے
وقت مصروف ہے کیسی چمن آرائی میں

شہر ویران ہوئے، بحر بیابان ہوئے
خاک اڑتی ہے در و دشت کی پہنائی میں

ایک لمحے میں بکھر جاتا ہے تانا بانا
اور پھر عمر گزر جاتی ہے یکجائی میں

اس تماشے میں نہیں دیکھنے والا کوئی
اس تماشے کو جو برپا ہے تماشائی میں

احمد مشتاق

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/