آنس معین کا یومِ ولادت 29 نومبر 1960 آنسؔ معین …

آنس معین کا یومِ ولادت
29 نومبر 1960
آنسؔ معین کے منتخب اشعار
…..
*انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے*
*خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور*
—
ہماری مسکراہٹ پر نہ جانا
دیا تو قبر پر بھی جل رہا ہے
—
*حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہو*
*لگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھا*
—
ممکن ہے کہ صدیوں بھی نظر آئے نہ سورج
اس بار اندھیرا مرے اندر سے اٹھا ہے
—
اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں
کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور
—
عجب انداز سے یہ گھر گرا ہے
مرا ملبہ مرے اوپر گرا ہے
—
گونجتا ہے بدن میں سناٹا
کوئی خالی مکان ہو جیسے
—
وہ جو پیاسا لگتا تھا سیلاب زدہ تھا
پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا ہے
—
*اندر کی دنیا سے ربط بڑھاؤ آنسؔ*
*باہر کھلنے والی کھڑکی بند پڑی ہے*
—
یہ انتظارِ سحر کا تھا یا تمہارا تھا
دیا جلایا بھی میں نے دیا بجھایا بھی
—
یاد ہے آنسؔ پہلے تم خود بکھرے تھے
آئینے نے تم سے بکھرنا سیکھا تھا
—
گہری سوچیں لمبے دن اور چھوٹی راتیں
وقت سے پہلے دھوپ سروں پہ آ پہنچی
—
کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار
اے کاش کہ ہوتی مری گہرائی ذرا اور
—
*عجب تلاشِ مسلسل کا اختتام ہوا*
*حصولِ رزق ہوا بھی تو زیرِ دام ہوا*
—
آخر کو روح توڑ ہی دے گی حصارِ جسم
کب تک اسیرِ خوشبو رہے گی گلاب میں
—
گئے زمانے کی چاپ جن کو سمجھ رہے ہو
وہ آنے والے اداس لمحوں کی سسکیاں ہیں
—
نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوں
ابھی میں اندر کے آدمی سے ڈرا ہوا ہوں
—
آج ذرا سی دیر کو اپنے اندر جھانک کر دیکھا تھا
آج مرا اور اک وحشی کا ساتھ رہا پل دو پل کا
—
*اک کربِ مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں*
*مقتل میں ہیں جینے کی دعا دیں تو کسے دیں*
—
بکھر کے پھول فضاؤں میں باس چھوڑ گیا
تمام رنگ یہیں آس پاس چھوڑ گیا
—
نہ تھی زمین میں وسعت مری نظر جیسی
بدن تھکا بھی نہیں اور سفر تمام ہوا
—
اتارا دل کے ورق پر تو کتنا پچھتایا
وہ انتساب جو پہلے بس اک کتاب پہ تھا
—
گیا تھا مانگنے خوشبو میں پھول سے لیکن
پھٹے لباس میں وہ بھی گدا لگا مجھ کو
—
کب بار تبسم مرے ہونٹوں سے اٹھے گا
یہ بوجھ بھی لگتا ہے اٹھائے گا کوئی اور
—
درکار تحفظ ہے پہ سانس بھی لینا ہے
دیوار بناؤ تو دیوار میں در رکھنا
—
*میں اپنی ذات کی تنہائی میں مقید تھا*
*پھر اس چٹان میں اک پھول نے شگاف کیا*
—
*تمہارے نام کے نیچے کھنچی ہوئی ہے لکیر*
*کتابِ زیست ہے سادہ اس اندراج کے بعد*
—
یہ اور بات کہ رنگِ بہار کم ہوگا
نئی رتوں میں درختوں کا بار کم ہوگا
—
*یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور*
*دکھ مجھ کو ہے اور نیر بہائے گا کوئی اور*
—
*وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھی*
*عجیب شخص ہے اپنا بھی ہے پرایا بھی*
—
اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں
کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور
………….




