منتخب غزلیں
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ مرے دل میں ہے، مدینہ …

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کعبہ مرے دل میں ہے، مدینہ ہے نظر میں
اب کون سی رونق کی کمی ہے مرے گھر میں
کعبہ مرے دل میں ہے، مدینہ ہے نظر میں
اب کون سی رونق کی کمی ہے مرے گھر میں
اس دَر پہ دعاوں کی ضرورت نہیں ہوتی
تھوڑا سا سلیقہ ہو اگر دیدہ ء تر میں
اب آنکھوں کو میری کوئی بے نور نہ سمجھے
کچھ جلوے سمٹ آئے ہیں دامانِ نظر میں
ہر گام پہ آنکھوں سے ٹپک جاتے ہیں سجدے
کچھ ایسے مقام آتے ہیں طیبہ کے سفر میں
اس شہر سے سورج بھی گزرتا ہے مودّب
کچھ ایسا تقدّس ہے مدینے کی سحر میں
کعبے میں تو بے شک کوئی بُت اب نہیں موجود
کچھ بُت ابھی باقی ہیں مگر ذہنِ بشر میں
اس راہ کے ہادی کا کہا بھی تو رہے یاد
احرام ہی کافی نہیں کعبے کے سفر میں
مرجاوں تو اقبالؔ مجھے خلد کے بدلے
تھوڑی سی زمیں چاہیے آقا کے نگر میں
——–
سید پروفیسراقبالؔ عظیم




