منتخب غزلیں

اندھیروں میں بھٹکنا ہے پریشانی میں رہنا ہے میں ج…

اندھیروں میں بھٹکنا ہے پریشانی میں رہنا ہے
میں جگنو ہوں مجھے اک شب کی ویرانی میں رہنا ہے

ابھی کچھ ضبط کا یارا مری آنکھوں میں باقی ہے
ابھی اشکوں کو پلکوں کی نگہبانی میں رہنا ہے

جو منظر رو بہ رو ہے دیکھ لوں اک بار جی بھر کے
پھر اس کے بعد تو آنکھوں کو حیرانی میں رہنا ہے

تری وحشت سمجھتا ہوں اے میری آرزو لیکن
تجھے کچھ دن ابھی اس دل کی ویرانی میں رہنا ہے

More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/