منتخب غزلیں
گلاب تھا نہ کنول پھر بدن وہ کیسا تھا کہ جس کا لم…
گلاب تھا نہ کنول پھر بدن وہ کیسا تھا
کہ جس کا لمس بہاروں میں رنگ بھرتا تھا
جہاں پہ سادہ دلی کے مکیں تھے کچھ پیکر
وہ جھونپڑا تھا مگر پر شکوہ کتنا تھا
مشام جاں سے گزرتی رہی ہے تازہ ہوا
ترا خیال کھلے آسمان جیسا تھا
اسی کے ہاتھ میں تمغے ہیں کل جو میداں میں
ہماری چھاؤں میں اپنا بچاؤ کرتا تھا
… More



