منتخب غزلیں

آگ اپنے ہی لگا سکتے ہیں غیر تو صرف ہوا دیتے ہیں …..

آگ اپنے ہی لگا سکتے ہیں
غیر تو صرف ہوا دیتے ہیں

معروف شاعر محمد علوی کا یومِ وفات
January 29, 2018
( پیدائش: 10 اپریل 1927 – وفات 29 جنوری 2018)
محمد علوی اردو کے نمائندہ شعرا میں شمار کیے جاتے تھے ۔محمد علوی کی پیدائش ۱۰ اپریل ۱۹۲۷ کو احمد آباد میں ہوئی تھی ۔

منتخب اشعار

کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے
اس کی تصویر ہٹا دی جائے

اندھیرا ہے کیسے ترا خط پڑھوں
لفافے میں کچھ روشنی بھیج دے

اب نہ غالبؔ سے شکایت ہے نہ شکوہ میرؔ کا
بن گیا میں بھی نشانہ ریختہ کے تیر کا

دیکھا تو سب کے سر پہ گناہوں کا بوجھ تھا
خوش تھے تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر

نظروں سے ناپتا ہے سمندر کی وسعتیں
ساحل پہ اک شخص اکیلا کھڑا ہوا

اس سے ملے زمانہ ہوا لیکن آج بھی
دل سے دعا نکلتی ہے خوش ہو جہاں بھی ہو

ہر وقت کھلتے پھول کی جانب تکا نہ کر
مرجھا کے پتیوں کو بکھرتے ہوئے بھی دیکھ

رات ملی تنہائی ملی اور جام ملا
گھر سے نکلے تو کیا کیا آرام ملا

موت بھی دور بہت دور کہیں پھرتی ہے
کون اب آ کے اسیروں کو رہائی دے گا

رکھتے ہو اگر آنکھ تو باہر سے نہ دیکھو
دیکھو مجھے اندر سے بہت ٹوٹ چکا ہوں

دن ڈھل رہا تھا جب اسے دفنا کے آئے تھے
سورج بھی تھا ملول زمیں پر جھکا ہوا

گواہی دیتا وہی میری بے گناہی کی
وہ مر گیا تو اسے اب کہاں سے لاؤں میں

اس بھری دنیا سے وہ چل دیا چپکے سے یوں
جیسے کسی کو بھی اب اس کی ضرورت نہ تھی

آگ پانی سے ڈرتا ہوا میں ہی تھا
چاند کی سیر کرتا ہوا میں ہی تھا

اک یاد رہ گئی ہے مگر وہ بھی کم نہیں
اک درد رہ گیا ہے سو رکھنا سنبھال کر

مانا کہ تو ذہین بھی ہے خوب رو بھی ہے
تجھ سا نہ میں ہوا تو بھلا کیا برا ہوا

صدیوں سے کنارے پہ کھڑا سوکھ رہا ہے
اس شہر کو دریا میں گرا دینا چاہیئے

یار آج میں نے بھی اک کمال کرنا ہے
جسم سے نکلنا ہے جی بحال کرنا ہے

اچھے دن کب آئیں گے
کیا یوں ہی مر جائیں گے

میں خود کو مرتے ہوئے دیکھ کر بہت خوش ہوں
یہ ڈر بھی ہے کہ مری آنکھ کھل نہ جائے کہیں

چلا جاؤں گا جیسے خود کو تنہا چھوڑ کر علویؔ
میں اپنے آپ کو راتوں میں اٹھ کر دیکھ لیتا ہوں

محمد علوی کی ایک غزل۔
جاتے جاتے دیکھنا پتھر میں جاں رکھ جاؤں گا
کچھ نہیں تو ایک دو چنگاریاں رکھ جاؤں گا
نیند میں بھی خواب رکھنے کی جگہ باقی نہیں
سوچتا ہوں یہ خزانہ اب کہاں رکھ جاؤں گا
سب نمازیں باندھ کر لے جاؤں گا میں اپنے ساتھ
اور مسجد کے لیے گونگی اذاں رکھ جاؤں گا
جانتا ہوں یہ تماشہ ختم ہونے کا نہیں
ہال میں اک روز خالی کرسیاں رکھ جاؤں گا
چاند سورج اور تارے پھونک ڈالوں گا سبھی
اس زمیں پر ایک ننگا آسماں رکھ جاؤں گا
چھوڑ دوں گا اب میں علویؔ آخری دن کی تلاش
اور ادب کے شہر میں خالی مکاں رکھ جاؤں گا
…………
کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر
اب اور اپنے آپ کو مت پائمال کر
مرنے کے ڈر سے اور کہاں تک جئے گا تو
جینے کے دن تمام ہوئے انتقال کر
اک یاد رہ گئی ہے مگر وہ بھی کم نہیں
اک درد رہ گیا ہے سو رکھنا سنبھال کر
دیکھا تو سب کے سر پہ گناہوں کا بوجھ تھا
خوش تھے تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر
خواجہ کے در سے کوئی بھی خالی نہیں گیا
آیا ہے اتنے دور تو علویؔ سوال کر
………………..


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/