منتخب غزلیں

خِزاں کی بات ، نہ ذکرِ بہار کرتے ہیں تو لوگ ک…

خِزاں کی بات ، نہ ذکرِ بہار کرتے ہیں
تو لوگ کیسے غموں کا شمار کرتے ہیں

یہ اہلِ شہر جسے خاکسار کرتے ہیں
بگولہ کہہ کے اُسے بے وقار کرتے ہیں

ابھی ہمیں کسی منزل کی جستجو ہی نہیں
سفر برائے سفر اختیار کرتے ہیں

یہ کس کے وصل کی خوشبو ہے رہ گزاروں میں
کہ لوگ شام و سحر انتظار کرتے ہیں

اگرچہ بارِ سماعت ہیں شب کے سناٹے
کوئی سنے تو اسے ہوشیار کرتے ہیں

کچھ اور شمعیں جلانا پڑیں گی محفل میں
ابھی اندھیرے اجالوں پہ وار کرتے ہیں

ہمیں بھی رشک دعاؤں سے مدّعا مل جائے
یہی دعا ہے جو ہم بار بار کرتے ہیں

(رشک خلیلی)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/