کالم

مافیا کو لگام ڈالیں! | Khabrain Group Pakistan

ڈاکٹر شاہد رشیدبٹ
ہمارا پیارا ملک پاکستان اس وقت کئی چیلنجز سے نمٹ رہا ہے اور اسے کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں جب ہمیں مشکلات سے نمٹنے کے لیے اتحاد اور یکجہتی کا مظا ہرہ اور اپنا مال و دولت غریب اور نادار پاکستانی بہن بھا ئیوں کے لیے وقف کرنے کی ضرورت ہے، ایسے حالات میں بھی کچھ عناصر کی جانب سے عوام کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے اور ان کو لوٹنے کا مکروہ سلسلہ جاری ہے۔ ان عناصر کو خوفِ خدا کرنا چاہیے اور ان حرکتوں سے باز آجانا چاہیے ۔ حکومت پلازمہ مافیا کی لوٹ مار کا نوٹس لے۔بہت سے نجی ہسپتال اورلیبارٹریاںاس دھندے میں ملوث ہیں جن کے خلاف کاروائی کی جائے۔ڈاکٹروں کی اکثریت انسانیت کی خدمت میں مصروف ہے وہیں انکی صفوں میں موجودکالی بھیڑیں لوٹ مار کر رہی ہیں۔ کرونا وائرس کی وجہ سے ہیلتھ مافیا اورفارما مافیا پہلے ہی ناجائز کمائی کے لئے سرگرم تھیں اور اب پلازمہ مافیا کا ناجائز دھندہ بھی عروج پر پہنچ گیا ہے۔مافیا کے ایجنٹ بہت سے ہسپتالوں میں سرگرم ہیں جو کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں سے پلازمہ حاصل کر کے دیگر مریضوں کو انتہائی مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں۔دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی پلازمہ تھراپی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ صحت یاب ہونے والے مریض اگر اپنا پلازمہ عطیہ کریں تو نہ صرف مریضوں کو نئی زندگی ملے گی بلکہ شرح اموات بھی کم ہو جائے گی۔ مگر بدقسمتی سے ایسا کم ہو رہا ہے اور زیادہ تر لوگ اس سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس شرمناک دھندے میں بہت سے کلینک بھی ملوث ہیں جو پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک پلازمہ خرید کر پانچ سے دس لاکھ میں فروخت کر رہے ہیں جس کے لئے ہسپتالوں سے کوائف حاصل کر کے مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو کالیں بھی کی جا رہی ہیں۔اس انسانیت دشمن مافیا نے اپنے منافع کے لئے غریبوں کے لئے علاج ناممکن بنا ڈالا ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے ۔یہ مکروہ دھندا انسانیت اور شریعت دونوں کے منافی ہے کیونکہ خون کی خرید و فروخت ہر حال میں حرام ہے جبکہ کسی انسان کی جان بچانے کو قرآن نے تمام انسانوں کی جان بچانے کے برابر قرار دیا ہے۔ صحت پانے والے اللہ کا شکر ادا کریں اور پلازمہ عطیہ کرنے سے گریز نہ کریں جبکہ حکومت نجی شعبہ کی جانب سے خون اور پلازمہ کے عطیات جمع کرنے پر پابندی عائد کرنے پر غور کرے ۔ وبا کے بعد سے فارما اور ہیلتھ مافیا بھی پر نکال رہی ہے اور نجی ہسپتال عوام کی کھال اتارنے میں مصروف ہیں۔وبا بڑھنے کے ساتھ ان کی لوٹ مار بھی بڑھ رہی ہے جس کا تدارک کیا جانا ضروری ہے۔ ۔حکومت نجی ہسپتالوں کی خدمات اور لیبارٹری ٹیسٹ کی فیس طے کرے اور اس کا اعلان کرے تاکہ موجودہ تشویشناک صورتحال میں عوام کو لوٹنے کا سلسلہ بند ہو۔اس انداز میں کی جانی والی انسانیت کی تذلیل کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے ۔
اب بات کر لیتے ہیں موجودہ بجٹ کی۔ موجودہ بجٹ میں اصلاحات کم اور ٹیکس اہداف ضرورت سے زیادہ ہیں ۔ حکومت کی جانب سے مقرر کیا جانے والا 4900 ارب کاٹیکس ہدف زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔بجٹ خسارے اور اقتصادی مسائل کا سارا ملبہ سابقہ حکومت اور کرونا وائرس پر ڈالنا درست نہیں۔ آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کی شرائط معیشت کو کبھی سنبھلنے نہیں دینگی۔اپوزیشن بجٹ پڑھے بغیر اسے مسترد نہ کرنے بلکہ تجاویز دے۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی اپوزیشن نے بجٹ کو عوام دشمن قرار دیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بدترین معاشی بحران میں یہ بجٹ غنیمت ہے جس میں بعض شعبوں کو ریلیف دیا گیا ہے تاہم یہ توقعات سے کم ہے۔بجٹ کے مثبت پہلوﺅں میں سبسڈی میں خاطر خواہ کمی، نئے ٹیکس نہ لگانا، پچاس ہزار کے بجائے ایک لاکھ پر شناختی کارڈ کی شرط کا اطلاق اور خام مال پر ڈیوٹی کا خاتمہ شامل ہیں جس سے بہت سے اشیاءسستی ہو جائیں گی اور عوام کو ریلیف ملے گا جبکہ برآمدات بھی سستی ہو کر عالمی منڈی میں حریف ممالک کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکتی ہیں۔بجٹ کے نتیجہ میں تعمیرات اور ٹورازم کا شعبہ ترقی کر سکتا ہے۔اس بجٹ میں ترقیاتی فنڈز میں کمی کی گئی ہے جبکہ تعلیم کے شعبہ کو وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی۔اسی طرح ٹڈی دل جو معیشت کے لئے بڑا خطرہ بن گیا ہے‘ کے تدارک کے لئے صرف دس ارب روپے رکھے گئے ہیںجو بہت کم ہیں۔ کرونا سے نمٹنے کے لئے مختص کی گئی رقم بھی ناکافی ہے۔ بجٹ میںبرآمد ی صنعتوں کے لئے زیرو ریٹنگ سمیت متعدد مطالبات نظر انداز کئے گئے ہیں جن پر دوبارہ غور کیا جائے۔ موجودہ حالات میں شرح نمو بڑھانا حکومت کے لئے بڑا چیلنج ہو گا۔
اب آخر میں کچھ بات کر لیتے ہیں ملک کو درپیش کچھ دیگر بحرانوں کی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے عوام کی خاطر ملکی تاریخ میں پہلی بار مختلف با اثر ترین بزنس گروپس سے ٹکر لی ہے۔عوام ان کی کامیابی کے لئے دعاگو ہیں۔سرکاری صفوں میں موجود کالی بھیڑیں آئل مافیا کے ایما پر حکومت کو غلط اعداد و شمار پیش کر رہی ہیں۔ تیل بحران میں ملوث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر کم از کم ایک ارب روپے فی کمپنی جرمانہ کیا جائے جبکہ انکے سہولت کاروں کو برخاست کر کے مقدمات قائم کئے جائیں۔ توانائی کا کاروبار کرنے والوں کی سرکاری عہدوں پر تعیناتی پر پابندی عائد کی جائے اور انرجی سیکورٹی کے لئے حکومتی کمپنی کا کردار بڑھایا جائے۔ پٹرول پمپ رش کی وجہ سے کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کا بڑا سبب بن رہے ہیںجس کی تمام تر ذمہ داری آئل مافیا پر عائد ہوتی ہے۔سابق حکومت نے توانائی کے شعبہ کو آئل مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا ۔حکومت اور عوام کے بجائے ٹھیکیداروں کے لئے کام کرنے والے افسران اور انکے گاڈ فادرز کوفوری طور پر فارغ کر کے جیل میں چکی پسوائی جائے تاکہ آئندہ کسی کو ملکی مفادات سے کھیلنے یا عوام کو ریلیف دینے کے حکومتی منصوبہ کو ناکام بنانے کی ہمت نہ ہو۔ تیل دگنی قیمت پر فروخت کرنے والے پٹرول پمپ مالکان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے تاکہ عوام کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ ختم کیا جا سکے۔حکومت کو اپنی رٹ منوانے کے لیے ان تمام مافیاز کا لگام ڈالنا ہو گی تب ہی پاکستان کے غریب عوام کے لیے ریلیف کا کوئی ساما ن پیدا کیا جا سکتا ہے ۔
( کالم نگار پاکستان میں گھانا کے قونصل جنرل اور
سابق صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس ہیں )
٭….٭….٭



بشکریہ

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/