منتخب نظمیں

مرا جینا گواہی دے رہا ہے ابھی مجھ کو بہت کچھ دیکھ…

مرا جینا گواہی دے رہا ہے
ابھی مجھ کو بہت کچھ دیکھنا ہے

مجھے حیرت ہے اپنے دل پہ کتنی
یہ میرا ساتھ اب تک دے رہا ہے

کوئی روکے روانی آنسوؤں کی
یہ دریا بہتے بہتے تھک گیا ہے

میں پڑھ سکتی ہوں ان لکھے کو اب بھی
یہ کشف ِذات ہے یا اِک سزا ہے

یہ کیسی سازشوں میں گھر گئی ہوں
مجھے مجھ سے چھپایا جا رہا ہے

گھنے جنگل میں تنہا چھوڑ کر وہ
کہیں سے چُھپ کے مجھ کو دیکھتا ہے

خدا حافظ مرے اے ہم نشینو
کہ مجھ کو تو بلاوا آ گیا ہے

کشش کچھ اس قدر ہے مجھ میں شبنمؔ
سمندر میری جانب بڑھ رہا ہے

شبنم شکیل


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/