حسرت ؔموہانی یاس کا دِل پہ کُچھ اثر نہ ہُوا قصۂ ش…

یاس کا دِل پہ کُچھ اثر نہ ہُوا
قصۂ شوق، مُختصر نہ ہُوا
حُسن کو عِشق سے مُفر نہ ہُوا
لاکھ چاہا ! کہ ہو، مگر نہ ہُوا
عاشقی اُس کی معتبر نہ ہُوئی!
جو، تِرا بندۂ نظر نہ ہُوا
کُچھ ٹِھکانا ہے اِس تغافل کا
آپ کا جَور بھی، خبر نہ ہُوا
اشکِ پیہم سے شوقِ بیحد کا
گوشۂ آستِیں بھی تَر نہ ہُوا
مَرمِٹے ہم کہ، دَیں وہ دادِ وَفا
اور جو اِس کا بھی کُچھ اثر نہ ہُوا
نہ کُھلے ہم سے آپ، پر نہ کُھلے!
نہ ہُوا اعتبار ، پر نہ ہُوا
حالِ دِل کی، اُنھیں خبر نہ ہُوئی
طائرِ شوق نامہ بر نہ ہُوا
صرفِ دُشمن وہ لُطف ہو،اے وائے!
جو، کبھی میرے حال پر نہ ہُوا
کُچھ نہ آیا ہَمَیں، تو کیا اے عِشق!
یہ بھی، اِک طرح کا ہُنر نہ ہُوا
صدمہ پُہنچا جو تُجھ سے ، اے غَمِ عِشق!
نفعِ جاں ہوگیا ، ضرر نہ ہُوا
صرفِ عصیاں ہُوا ، وہ لحظۂ عُمر!
جو، تِری یاد میں بَسر نہ ہُوا
کُچھ عَجب چِیز ہے وہ حُسنِ عفِیف!
جو، کبھی فتنۂ نظر نہ ہُوا
تُم لَبِ بام ،جلوہ گر نہ ہُوئے
مَیں سَرِ راہ ،بے خبر نہ ہُوا
تابِ نظّارۂ دِگر، نہ رہی
حُسن پر غلبۂ بصر نہ ہُوا
ہے جہاں مدفنِ شہیدِ وَفا!
واں کبھی آپ کا، گُزر نہ ہُوا
خام ہے اُس کی عاشقی جو عزیز
باخبر ہو کے، بے خطر نہ ہُوا
رہ گئی شرمِ بیکسی حسرتؔ
مُچھ پہ احسانِ اہلِ زر نہ ہُوا
مولانا حسرتؔ موہانی



