منتخب نظمیں
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ – صوفیہ بیدار بلا جواز کہاں کو…

نعتِ رسولِ مقبول ﷺ – صوفیہ بیدار
بلا جواز کہاں کوئی بات ہوتی ہے
جو اُن کا اِذن ہو شامل تو نعت ہوتی ہے
لگن میں دونوں جہاں گھومتے ہیں اُن کے گرد
طوافِ نقطہ میں گم کائنات ہوتی ہے
ہر ایک لفظ بگھوتی ہوں شہد میں اپنا
گلاب رُو کے لیے پھر ہی بات ہوتی ہے
فقط حضورﷺ کی چاہت میں ہے بقا مضمر
وگرنہ زیست فقط بے ثبات ہوتی ہے
وفورِ شوقِ محمدﷺ میں دن نکلتا ہے
نیازِ عشقِ محمدﷺ میں رات ہوتی ہے
قدم قدم پہ قدم ڈگمگانے لگتے ہیں
سنبھالنے کو ہمیشہ وہ ذات ہوتی ہے
جو ڈھانپ لیتی ہے ہر عیب زندگانی کا
جہاں میں صوفیہؔ اک وہ ہی ذات ہوتی ہے

