منتخب غزلیں

ساغر صدیقی اور۔۔۔۔"ساحر صدیقی"۔۔۔۔۔۔!! …

ساغر صدیقی اور۔۔۔۔"ساحر صدیقی"۔۔۔۔۔۔!!
جام جم کی دنیا سےدور رہنےوالا ایک گمنام شاعر۔

یہ غزل ساحر صدیقی کی ہے جسے بلاوجہ خیال امروہوی نے اپنی گرہ میں باندھ لیا۔

پھر جانے کہاں تک شب ہجراں کا دھواں ہو
اے دوست ذرا اور قریبِ رگ جاں ہو
میں ایک زمانے سے تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں
تم ایک زمانے سے خدا جانے کہاں ہو
ہم آج بھی آئینہ ء تکرار طلب ہیں
تم آج بھی سرمایہ ء صاحب نظراں ہو
میں آپ کو اس پھول سے تعبیر کرونگا
جس پھول پہ اک قطرہء شبنم بھی گراں ہو
شاید یہ مری آنکھ سے گرتا ہوا آنسو
احباب کی بھولی ہوئی منزل کا نشاں ہو
ہم بھی اگر اس بزم سے اٹھ جائیں تو ساحر
پھر کون حریف ِ غم آشفتہ سراں ہو
ساحر صدیقی۔۔۔کا خاندان جھنگ میں آ کر آباد ہوا تھا۔۔۔جبکہ خود غنیمت علی ساحر صدیقی کا انتقال مری میں ہُوا۔۔۔۔۔۔پیشے کے اعتبار سے درزی تھے۔۔۔اور والد جھاڑ پھونک، عملیات کا شوق رکھتے تھے۔۔۔غنیمَت علی اس ماحول سے تنگ آ کر ساغرؔ صدیقی سے ملنے لاہور گئے اور پِھر لاہور کے ہی ہو رہے۔۔۔۔۔۔غنیمَت علی کا بہت سا وقت لاہور میں گزرا ہے اور ساغرؔ صدیقی کی صحبت بھی خوب پائی۔۔۔غنیمَت علی کو تخلّص۔۔۔۔جناب ساغر صدیقی نے ہی عطاء فرمایا۔۔۔اور غنیمت علی نے جناب ساغرؔ صدیقی کے ساتھ عقیدت کے باعث ۔۔۔صدیقی کا اضافہ کیا اور ساحر صدیقی کہلائے۔
(حکیم خلیق الرحمٰن)


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/