منتخب غزلیں
نہ معجزہ ہے کربلا نہ حادثہ ہے کربلا جو خون سے لکھا…

نہ معجزہ ہے کربلا نہ حادثہ ہے کربلا
جو خون سے لکھا گیا وہ فیصلہ ہے کربلا
جو خون سے لکھا گیا وہ فیصلہ ہے کربلا
یہی نہیں کہ صرف اپنے عہد میں ہوا، آج بھی
جہانِ مصلحت میں حرفِ برملا ہے کربلا
ہر ایک جبر کے خلاف خیر کے محاذ پر
جو مستقل بپا رہے وہ معرکہ ہے کربلا
سنانِ و خنجر و کمان ، مشک و چادر و علم
نشانیوں کا اِک عجیب سلسلہ ہے کربلا
افتخار عارف


