عمیر نجمی کا یومِ پیدائش September 02, 1986 محمد …

September 02, 1986
محمد عمیر نجمی 2 ستمبر 1986 کو پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں پیدا ہُوئے آپ کی تعلیم بی ایس سی آرکیٹیکچرل انجینئرنگ یو آئی ٹی لاہور سے کی ، ایف ایس سی ایف سی لاہور کالج سے، 2014 سے باقاعدہ اپنے شعری سفر کا آغاز کیا – آپ کو اپنے ہم عصر شعرا میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ آپ کی شاعری میں تازگی اور پختگی ہے آپ کی شاعری ایک وقت میں مرئی و غیر مرئی طاقتوں کو ساتھ لے کرآتی ہے
….
اب یہ زردی بھی بھگتنا تو پڑے گی کچھ دن
میں نہ کہتا تھا ہرے رنگ میں ملبوس نہ ہو
…..
نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ
اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے
……
تم نے چھوڑا تو کسی اور سے ٹکراؤں گا مَیں
کیسے ممکن ہے کہ اندھے کا کہیں سَر نہ لگے
….
اک اور عشق آ گیا تھا دورانِ ہجر، ٹالا
ممانعت تو نہیں تھی، مجھ میں سکت نہیں تھی
….
ہمارے دین میں جائز ہے تین روز کا سوگ
بچھڑ کے اُس سے ابھی رات دوسری ہی تو ہے
…..
میں قطع کرتا نہیں سرسری تعلق بھی
تمہارے ساتھ تو اچھا بھلا تعلق ہے
….
تو مجھ کو رونے دے یار شانے پہ ہاتھ مت رکھ
میں گیلے کاغذ کی طرح چهونے سے پهٹ رہا ہوں
….
خشک دیوار میں سیلن کا سبب کیا ہو گا؟
اک عدد زنگ لگی کیل تھی ‘ تصویر کے بعد
…..
کسی کی نیند ہمیں دستیاب ہو اک شب
ہمارے خواب کسی اور کو دکھا دیئے جائیں
….
کتاب عشق میں ہر آہ ایک آیت ہے
پر آنسوؤں کو حروف مقطعات سمجھ


