منتخب غزلیں
خاکِ رہ نفع سہی ، ہجر کمائی ہی سہی منزل…

خاکِ رہ نفع سہی ، ہجر کمائی ہی سہی
منزلِ وصل نہیں ، آبلہ پائی ہی سہی
منزلِ وصل نہیں ، آبلہ پائی ہی سہی
ضُعف تسلیم مگر جمِّ اسیرانِ جفا!
کوئی چارہ تو کرو ، شور دُہائی ہی سہی
مَیں تَہی دست کہاں یاد بھی دے پایا اُسے
وہ تو کچھ دے ہی گیا، رنجِ جدائی ہی سہی
رُخ سے پردہ تو ہٹے ، محشرِ دیدار تو ہو
چشمِ خنداں نہ سہی ، چشم نمائی ہی سہی
دل کو تسکین سی ہے جان سے جاتے جاتے
دَہر میں کچھ تو کِیا ، درد سَرائی ہی سہی
آنکھ روتی ہی رہے ، حاصلِ گِریہ نیّرؔ
اور کچھ بھی نہ سہی، دل کی صفائی ہی سہی
شہزاد نَیّرؔ
از:-خوابشار ص ۶۴
اِنتِخاب
سفیدپوش



Zabardast