احمد شمیم کا یوم وفات August 07, 1981 احمد شمیم ک…

August 07, 1981
احمد شمیم کا اصل نام غلام محمد زرگر تھا. 30 مادچ 1929 کو سرینگر میں پیدا ہوئے تحریک آزادی کشمیر میں سرگرم ہونے کی وجہ سے بھارتی جیل بھی کاٹی
ہجرت کے بعد حکومت آزاد کشمیر کے محکمہ اطلاعات میں شامل ہوئے
احمد شمیم نے افسانے اور ڈرامے بھی لکھے کشمیری زبان کی شاعری میں بھی وہ بلند مقام رکھتے ہیں انگریزی میں بھی نظمیں لکھیں
احمد شمیم محکمہ اطلاعات میں ڈائریکٹر کے عہدے پر تھے جب 7 اگست 1982 کو راولپنڈی میں وفات پائی
۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی رنج سفر کی ابتدا ہے
ابھی سے جی بہت گھبرا رہا ہے
دئے بجھنے لگے ہیں طاقچوں میں
ہر اک شے پر اندھیرا چھا رہا ہے
ہوا شاخوں میں چھپ کر رو رہی ہے
نہ جانے کیسا موسم آ رہا ہے
ٹھٹھرتی رت میں زخمی انگلیوں سے
ہمیں دریا میں سونا ڈھونڈھنا ہے
اسی امید پر بن باس کاٹیں
ہمیں بھی ایک دن گھر لوٹنا ہے
بہت چاہوں کہ میں بھی ہاتھ اٹھاؤں
مرے ہونٹوں پہ لیکن بد دعا ہے



کبهی ہم خوبصورت تهے….